چینی کوسٹ گارڈ کی کشتی کا فلپائن کے سرکاری بحری جہاز سے تصادم

چینی کوسٹ گارڈ کی کشتی کا فلپائن کے سرکاری بحری جہاز سے تصادم

منیلا: بحیرۂ جنوبی چین میں چینی کوسٹ گارڈ کے جہاز CCG-21585 اور فلپائن کے سرکاری ادارے بیورو آف فشریز اینڈ ایکواٹک ریسورسز (BFAR) کے بحری جہاز BRP Datu Magat Salamat کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے، جس میں فلپائنی جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

 واقعہ 18 ستمبر کو پلوان کے ساحل سے تقریباً 54 ناٹیکل میل دور پیش آیا۔فلپائن کوسٹ گارڈ کے مطابق BFAR کا جہاز مقامی ماہی گیروں کو ایندھن کی فراہمی کے مشن پر تھا۔ فلپائنی حکام کا کہنا ہے کہ چینی کوسٹ گارڈ کے جہاز نے پہلے فلپائنی جہاز کے پچھلے حصے کے قریب سے انتہائی کم فاصلے پر گزرنے کی کوشش کی اور چند منٹ بعد دوبارہ اسی نوعیت کی نقل و حرکت کرتے ہوئے اس سے ٹکرا گیا۔فلپائن کے مطابق تصادم سے BRP Datu Magat Salamat کے دائیں جانب کی ریلنگز کو نقصان پہنچا، بعض دھاتی سپورٹ اسٹرکچرز متاثر ہوئے جبکہ ڈیک پر موجود کچھ سامان بھی اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔ فلپائن کوسٹ گارڈ نے واقعے کے بعد امدادی بحری اور فضائی وسائل علاقے میں بھیج دیے تاکہ عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔دوسری جانب چین نے فلپائن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی ذمہ داری فلپائنی جہاز پر عائد کی ہے۔ چینی مؤقف کے مطابق فلپائنی جہاز نے چینی کوسٹ گارڈ کی وارننگ کو نظر انداز کیا، اچانک راستہ تبدیل کیا اور چینی جہاز کے سامنے سے گزرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں تصادم ہوا۔

یہ واقعہ بحیرۂ جنوبی چین کے متنازع سمندری علاقوں میں چین اور فلپائن کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔ دونوں ممالک خطے میں سمندری حدود اور اپنے حقوق کے حوالے سے مختلف مؤقف رکھتے ہیں، جبکہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے بحری اور کوسٹ گارڈ جہازوں کے درمیان متعدد کشیدہ واقعات سامنے آچکے ہیں۔فلپائن کی جانب سے واقعے کی مذمت کی گئی ہے، جبکہ حکام نے کہا ہے کہ وہ اپنے ماہی گیروں کی مدد اور سمندری سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ دوسری جانب چینی حکام کا مؤقف ہے کہ چینی کوسٹ گارڈ نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشہ ورانہ اور قانونی انداز اختیار کیا۔

واقعے کے بعد فلپائنی جہاز کو مزید جانچ کے لیے واپس بھیجے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس کی سمندری سفر کے قابل ہونے کی حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔ دونوں ممالک کے متضاد بیانات کے باعث تصادم کی مکمل ذمہ داری کا تعین متعلقہ شواہد اور دستیاب ویڈیو و مواصلاتی ریکارڈ کے جائزے سے ہی ممکن ہوگا۔