پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باوجود مہنگائی کے بوجھ تلے دبے شہریوں کو خاطر خواہ ریلیف نہ مل سکا۔
پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کے بعد نئی قیمت 389 روپے 14 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، تاہم شہریوں نے کمی کو اپنی توقعات کے مقابلے میں ناکافی قرار دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں پہلے نمایاں اضافہ کیا جاتا ہے اور بعد ازاں معمولی کمی کرکے عوام کو ریلیف دینے کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ کمی سے روزمرہ اشیائے ضروریہ اور دیگر اخراجات میں فوری طور پر نمایاں کمی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔عوام کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمتیں براہِ راست ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کے اخراجات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مسلسل مہنگائی کے باعث پہلے ہی گھریلو بجٹ شدید متاثر ہے، ایسے میں پٹرولیم مصنوعات میں معمولی کمی عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے کافی نہیں۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتی اخراجات میں کمی اور دیگر اقدامات کے ذریعے عوام پر مالی بوجھ کم کیا جائے، جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کو حقیقی اور مؤثر ریلیف مل سکے۔