بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے۔
درخواست مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی سے اہلخانہ کی ملاقاتیں بند ہیں اور انہیں مبینہ طور پر طویل عرصے سے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی عدالت نے بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی کی سزا نہیں سنائی، جبکہ جیل رولز کے مطابق کسی بھی قیدی کو 14 دن سے زائد تنہائی میں رکھنا غیر قانونی ہے۔مزید کہا گیا کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کی خلاف ورزی ہے، اور اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کے مطابق بھی طویل تنہائی انسانی وقار کے منافی ہے۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو صحت کے مسائل کا بھی سامنا ہے، انہیں آنکھ کی سرجری کے بعد متعدد بار اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ان کے اہلخانہ اور وکلاء کو مناسب طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ قانونی مشاورت اور پاور آف اٹارنی پر دستخط کے لیے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔درخواست میں سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور چیئرمین نیب کو فریق بنایا گیا ہے، جبکہ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قیدِ تنہائی کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔