ویب ڈیسک: کراچی بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کے تبادلے کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی نئی سینیارٹی کو کالعدم قرار دیا جائے، اور قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کے نوٹیفکیشن کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے کا اختیار آئین صدر کو غیر محدود نہیں دیتا اور صدر کا یہ اقدام عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کے اصولوں کے خلاف ہے۔ درخواست کے مطابق صدر کے آرٹیکل 200(1) کے تحت حاصل اختیارات کو آئین کے آرٹیکل 175A کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ ججز کے تبادلے کا نوٹیفکیشن غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔کراچی بار ایسوسی ایشن نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کے تبادلے سے کسی عوامی مفاد کا اظہار نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ ٹرانسفر شدہ ججز کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے طور پر دوبارہ حلف اٹھانا چاہیے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ججز کے تبادلے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس عامر فاروق کے انٹرا کورٹ ڈیپارٹمنٹل فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا جائے، اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی نئی سینیارٹی لسٹ کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔ اس کے علاوہ قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کو بھی کالعدم قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔یہ درخواست ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے ذریعے دائر کی گئی ہے، جس میں صدر پاکستان، وفاق اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں رجسٹرار لاہور، اسلام آباد، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹ کو بھی فریق بنایا گیا ہے، اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر شدہ ججز اور متاثرہ ججز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔