اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک نئی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی مبینہ طور پر “قید تنہائی” میں رکھے جانے کے عمل کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست علیمہ خان کی جانب سے ان کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں طویل مدت تک تنہائی میں رکھنا غیر قانونی اور آئینی حقوق کے منافی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ:
کسی عدالت نے انہیں تنہائی کی سزا نہیں سنائی
جیل رولز کے مطابق کسی قیدی کو زیادہ سے زیادہ 14 دن تک تنہائی میں رکھا جا سکتا ہے
مسلسل تنہائی آئین کے آرٹیکل 9 (زندگی و آزادی) اور آرٹیکل 14 (انسانی وقار) کی خلاف ورزی ہے
اقوام متحدہ کے “نیلسن منڈیلا رولز” کے مطابق غیر معینہ مدت تک تنہائی انسانی حقوق کے خلاف ہے
درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہیں روزانہ تقریباً 22 گھنٹے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جبکہ ملاقاتوں، قانونی مشاورت اور ضروری سہولیات تک رسائی محدود ہے۔مزید یہ کہ درخواست میں ان کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، خاص طور پر دائیں آنکھ کی بینائی میں مبینہ طور پر 85 فیصد کمی اور مناسب علاج نہ ملنے کا ذکر کیا گیا ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں مناسب طبی سہولیات اور ہسپتال منتقلی میں تاخیر کی گئی، جبکہ جیل حکام نے مبینہ طور پر اہلخانہ اور وکلاء کو مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔اس کیس میں متعدد فریق نامزد کیے گئے ہیں، جن میں جیل حکام، پنجاب کا جیل خانہ جات محکمہ، نیب، ایف آئی اے، اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں۔اب عدالت اس درخواست پر آئندہ سماعت میں غور کرے گی کہ آیا قید کی موجودہ صورتحال جیل قوانین اور آئینی حقوق کے مطابق ہے یا نہیں۔