مارکیٹ ماہرین کے مطابق اگرچہ عالمی توانائی منڈی میں وقتی طور پر دباؤ میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور صورتحال کسی بھی وقت دوبارہ تبدیل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی تناؤ برقرار رہنے کے باعث عالمی تیل کی قیمتیں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جس سے سرمایہ کار بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے روسی تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے بعض ممالک کے لیے آئل خریداری کی اجازت میں 30 دن کی توسیع کر دی ہے، جسے توانائی مارکیٹ میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کے ذخائر میں کمی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال آئندہ دنوں میں بھی تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جغرافیائی سیاسی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں میں دوبارہ اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔