مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں سپلائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں رواں ہفتے خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن کی سطح سے تجاوز کرگئی۔
جمعے کے کاروباری سیشن میں برینٹ خام تیل کی قیمت 3.02 ڈالر کمی کے بعد 104.61 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 2.43 ڈالر کمی کے بعد 100.05 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ تاہم ہفتہ وار بنیاد پر دونوں اہم بینچ مارکس کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت معمول پر رکھنے کے لیے عارضی انتظام پر بات چیت کی اطلاعات کے بعد جمعے کو تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی، تاہم عالمی مارکیٹ میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات تاحال برقرار ہیں۔سعودی عرب سے متعلق بھی توانائی مارکیٹ میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے قریب دھویں کے مناظر سامنے آئے ہیں۔ یہ پائپ لائن اس لیے اہم ہے کہ اس کے ذریعے خام تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر برآمدی مراکز تک پہنچایا جاسکتا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق خطے میں حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی خام تیل کی سپلائی اگست میں ماہانہ بنیاد پر 23 لاکھ بیرل یومیہ کم ہوکر 60 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو 30 سال سے زائد عرصے کی کم ترین سطح قرار دی جارہی ہے۔
دوسری جانب عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ابتدائی شپ ٹریکنگ اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد 11 سے کم ہوکر صرف 7 رہ گئی۔یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے باب المندب کے قریب واقع جزیرہ پریم تک رسائی کی اطلاعات کے بعد بحری نقل و حمل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خطے کے اہم بحری راستوں میں رکاوٹیں عالمی توانائی سپلائی چین کو براہ راست متاثر کرسکتی ہیں۔ادھر روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں نے بھی عالمی ایندھن مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں اور روسی ریفائننگ صلاحیت متاثر ہونے کے باعث امریکا میں ڈیزل سمیت ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔گیس بڈی کے مطابق امریکا میں ڈیزل کی قومی اوسط قیمت پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی خطے میں بحری آمدورفت کے مسائل اور روسی ریفائنریوں میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو ڈیزل سمیت ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتیں خام تیل کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
جرمن بینک کومرز بینک نے بھی عالمی صورتحال کے پیش نظر رواں سال کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت کا تخمینہ 75 ڈالر سے بڑھا کر 85 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جبکہ ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں کے تخمینوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں اور روسی ریفائننگ شعبے کو درپیش مشکلات کے باعث آنے والے دنوں میں عالمی تیل اور ایندھن مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔