مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عراقی سمندری حدود کے قریب دو آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس کے باعث آئندہ دنوں میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق عراقی پانیوں کے قریب دو بین الاقوامی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے۔ نتیجتاً برطانوی خام تیل کی قیمت 8 فیصد اضافے کے بعد 100.50 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 8.57 فیصد اضافے کے بعد 94.73 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ ابتدائی ایشیائی تجارت میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 7.5 فیصد اضافے کے بعد 93.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی خطے اور آبنائے ہرمز کے اطراف کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ براہ راست ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔مزید یہ کہ ایران نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ دنیا 200 ڈالر فی بیرل تیل کے لیے تیار ہو جائے کیونکہ امریکہ تیل کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کر سکے گا۔ ایران کے خاتم الانبیا ملٹری کمانڈ ہیڈکوارٹرز نے اعلان کیا کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے شراکت داروں تک جانے والا ہر بحری جہاز یا ٹینکر ایران کے لیے جائز ہدف ہوگا۔ ایران نے کہا کہ تیل کی قیمت علاقائی سلامتی پر منحصر ہے، اور موجودہ کشیدگی کی وجہ سے قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔