سپریم کو رٹ کے فیصلے پر عملدرآمد میں تا خیرکیوں؟

  مسرور احمد مسرور
ہر ملک کی ترقی میں انصاف کا ایک بنیادی اہم کردار ہوا کرتا ہے، جس ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی وہاں ملک میں ترقی کے آثار نمایاں طور پر نظر آئیں گے۔ وہاں کی عوام بھی خوشحال ہوگی لیکن جہاں انصاف کی عدم دستیابی کا ماحول ہوگا وہاں ملک کی مجموعی صورتحال کسی طرح بھی اطمینان بخش نہیں ہوگی۔ پاکستان کی مثال سب کے سامنے ہے، جہاں انصاف کی حالت نہایت ہی دگردوں ہے جس کی وجہ سے ستر سال گزر جانے کے بعد بھی ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکا۔ انصاف کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا 129واں نمبر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم انصاف کی دوڑ میں بہت پیچھے ہیں، یہاں انصاف کی یکساں فراہمی کا نظام موجود نہیں ہے، امیر کیلئے وی آئی پی نظام رائج ہے، غریب کیلئے قانون میں سختی سے نمٹاجاتا ہے، امیر کو قانون میں پورا ریلیف میسر ہوتا ہے چاہے کتنا بڑا سنگین جرم ہی کیوں نہ ہو، انہیں مہینوں سالوں کی ضمانت کی سہولت میسر ہوتی ہے۔ چھٹی کے دن بھی ان کیلئے عدالتیں کھول دی جاتی ہیں، غریب جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہوتے ہیں، انہیں ایک ٹکے کا ریلیف مہیا نہیں ہوتا، انصاف کے نظام میں یہ دہرا رویہ نظام عدل پر ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ جس معاشرے میں انصاف کی دو رخی موجود ہو وہاں بھوک، غربت، پریشانی جنم لیتی ہیں۔ جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے اور ملک کی ترقی کا پہیہ جم کر رہ جاتا ہے۔
ماہرین عمرانیات کا ماننا ہے کہ ریاست کے قیام کے بعد معاشرے کی تشکیل کے بنیادی اغراض ومقاصد میں تمام افراد معاشرہ کو کسی رنگ ونسل کے تعصب کے بغیر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا سرفہرست قرار پاتا ہے اور آج کی دنیا میں ہر مہذب اور ترقی پسند معاشرے میں اسے اولین اہمیت دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول ایک راہنما اصول کا درجہ رکھتا ہے کہ کفر کیساتھ حکومت باقی رہ سکتی ہے لیکن ظلم وناانصافی کیساتھ اس کی بقا ہرگز ممکن نہیں رہتی۔
عدلیہ کی طرف سے افراد معاشرہ کو انصاف کی فراہمی اور ان کے حقوق کا تحفظ بھی اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا، جب تک ان فیصلوں پر انتظامیہ کی طرف سے عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔ عدلیہ کا کام صرف حق وانصاف پر مبنی فیصلے صادر کرنا ہے جبکہ ان پر عملدرآمد میں انتظامیہ کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے، اگر ماتحت اور اعلیٰ عدالتیں مقدمات کے التوا کو اپنا معمول بنا لیں تو اس سے بھی متاثرہ فریق کو حصول انصاف میں تاخیر کے باعث مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آج کے دورمیں بالخصوص ماتحت عدالتوں میں مقدمات کے التوا کے کلچر کے ڈانڈے کرپشن سے ملے دکھائی دیتے ہیں جس پر فریقین بالخصوص متاثرہ فریق کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ماتحت عدالتوں کے متعلق کرپشن اور بدعنوانی کی داستانیں زبان زدعام ہو جاتی ہیں۔
اس پس منظر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک سینئر ترین جج اور سابقہ قائمقام چیف جسٹس کی طرف سے ماتحت عدالتوں کیلئے یہ مشورہ اور ہدایت ایک راہنما اصول کا درجہ رکھتی ہے کہ وہ مقدمات کے فیصلے میرٹ کے مطابق کریں اور قانونی وتکنیکی پیچیدگیوں میں پڑ کر 
وسائل کو ضائع نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمات میں التوا کے کلچر کی ہر ممکن حوصلہ شکنی کی جائے کیونکہ انصاف میں تاخیر انصاف کی فراہمی سے انکار کے زمرے میں آتی ہے۔ ججوں کو انصاف کی جلد فراہمی کیلئے محنت اور خود اعتمادی سے کام کرنا چاہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ عدالتوں میں مقدمات کا التوا ایک ایسا ناپسندیدہ طرز عمل ہے جو بلاشبہ انصاف کی فراہمی سے انکار کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اسباب میں عدالتوں کے ججوں کے علاوہ بعض وکلاء کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بعض وکلاء حضرات اپنی عدالتی مصروفیات اور مقدمات کی بھرمار کے باوجود وکالت کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ وہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے عدالتوں میں مقررہ تاریخ پر پیش نہیں ہوتے ایسا کرنے سے مقدمات میں التوا کے کلچر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
ماتحت عدالتوں میں ججوں کی طرف سے بھی مقدمات کا التوا ایک معمول کی شکل اختیار کر گیا ہے بعض مقدمات کے بااثر اور دولت مند فریق بھی اپنے مخالف فریق کو تنگ کرنے اور مایوس کرنے کیلئے وکلاء اور ججوں کے ذریعے مقدمات کے فیصلوں یا عملدرآمد کے معاملے میں جلد فیصلہ نہیں ہونے دیتے، اگرچہ مقدمات کے التوا اور حصول انصاف میں تاخیر کے بعض دیگر اسباب بھی ہیں لیکن ماتحت عدالتوں میں یہ کلچر کرپشن اور بدعنوانی کا پیدا کردہ ہے۔
ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ سب کو اپنی ذمہ داری کا نہ صرف احساس کرنا ہوگا بلکہ اسے پورا بھی کرنا ہوگا، ہمیں قرآن حکیم کا یہ ارشاد گرامی بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ انصاف کرو یہ تمہیں تقوی کے قریب لے جاتا ہے۔
ؓبر سبیل تذکرہ الایئڈ بنک کے پنشنروں کی بات کرتا چلوںجن کے حق میں ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ایک فیصلہ صادر فرمایا لیکن سوا چھ سال گزرنے کے بعد اس فیصلے پر عملدرآمد التوا در التوا کا شکار ہے ہر تا ر یخ پر ایک نئی کہانی سنا دی جا تی ہے۔۱۴ مئی کی سماعت میں ۱۱ جون کی نئی تا ر یخ سنا تے ہوئے بتایا گیا کہ اگلی تا ر یخ  ۱۱ جون کو بحث ہو گی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کیس کا فیصلہ ہو جانے کے بعد کس بحث کی گنجایش رہ جا تی ہے۔اب تو صرف فیصلے پر  عملدرآمد کا معا ملہ ہے کہ بینک ا نتظا میہ ایک طویل مدت گزر جانے کے بعد غریب بوڑھے پنشنر وں کو ان کا حق دینے میں کیوں ناکام رہی جسکی بینک کو سخت
سزا دی جانی چا ہیے نہ کہ بحث کا پنڈورا  با کس کھولا جائے۔ان سوا چھ سالوں 
 میںپنشنروںکی ایک بڑی تعداد اپنے سامنے فیصلے پر عملدرآمد ہو تا دیکھنے کی حسرت لیئے دنیا  سے منہ موڑ گئے لیکن بینک ا نتطا میہ کیس کو لٹکائے رکھنے کی پنشنرز دشمنی پا لیسی جاری رکھنے کے سلسلے میں تا خیری چالوں پر توجہ دئے رکھی۔
 بینک نے اپنی لیگل ٹیم کو لمبے عرصے تک کیس کو کھینچنے کا ٹاسک دیا اور وہ اپنا کام پوری ذمہ داری سے انجام دے رہی ہے اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے بغیر کسی محنت کے چھ سال سے زیادہ  کا عرصہ گزار دیا اس کے بر عکس پنشنرز کے وکیلوں کو فیصلہ شدہ کیس پر بلا تا خیر فیصلے پر عمل درآمد کروانے کی ذ مہ داری سونپی گئی تھی 
جسے پورا کرنے میںوہ مکمل طور پر ناکام رہے ہیں بینک ا نتظا میہ کا پلڑا بھاری رہا
ہے۔جبکہ بینک کی جانب سے اس کیس سے متعلق کئی ا پیلیں عدالت عالیہ نے مسترد کی ہیں ٰؓ ٰؓبینک کی جانب سے اٹھائے گئے تمام ا عترا 
ضات رد کر دیئے گئے بینک کے صدر کو کو تا ہی بر تنے پر ۲ لاکھ کا جرمانہ بھی کیا گیا   جبکہ پنشنروں کی طرف سے ا یسا کچھ بھی غلط ریکارڈ پر مو جود نہیں ہے پھر ہماری قانونی ٹیم کیوں کا میا بی کا کوئی را ستہ نہ نکال پا ئی کہاں کو تا ہی بر تی گئی اور کیوں برتی گئی اس بات کا جواب تو دینا ہو گا۔اگر اپنے وکیلوں سے پو چھا جائے کہ انہوں نے عدا لت میں کھڑے ہو کر معزز جج صا حبان کے سامنے یہ حقیقت بیان کر نے کی کو شش کی کہ سپریم کورٹ کے ۱۷ جنوری ۲۰۲۰ کا فیصلہ ہوئے سوا
چھ سال کا عر صہ ہو چکا ہے جس پر عملد ر آمد میں تا خیر پنشنروں کے لئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔کیا ہماری لیگل ٹیم نے سوا چھ سالوں میں مالی پریشانیوں
اور علاج کے لیئے پیسے نہ ہونے والے ایسے پنشنر وں کی کو ئی لسٹ تیار کی جو ان حالا ت کی وجہ سے زندگی سے ہا تھ کھو بیٹھے اور کیا اگر ایسی لسٹ تیار کی گئی تو وہ 
عدا لت کے سامنے پیش کی گئی جس سے جج صاحبان پر کچھ اثر ہو تا لیکن ہما ری
لیگل ٹیم نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ہو گا۔جس کا مطلب یہ ہے کے ہماری قا نونی ٹیم بینک والوں کی بی ٹیم کا کردار ادا کررہی ہے ایسی صورت میں پنشنروں کے پاس ما یوس ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے
ُُُُُُُُ