رانا محمد نعیم
ایک وقت تھا کہ اگر کوئی ملزم مجسٹریٹ کے سامنے یہ بیان دے دیتا کہ پولیس اسے جعلی مقابلے میں مار سکتی ہے تو متعلقہ افسران محتاط ہو جاتے تھے۔ عدالت میں دیا گیا یہ بیان ایک حفاظتی ڈھال سمجھا جاتا تھا۔ آج صورتِ حال اس قدر تشویش ناک ہو چکی ہے کہ ملزمان اور ان کے اہلِ خانہ عام عدالتوں سے لے کر آئینی عدالتوں تک دہائیاں دیتے ہیں، اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود مبینہ پولیس مقابلوں میں انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ بعض واقعات میں تو ایسے افراد بھی مبینہ طور پر پولیس کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں جو عدالتی ریمانڈ پر ہوتے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی سامنے آتی ہیں کہ بعض ملزمان کو عدالتوں کے احاطے میں ہی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر عدالتوں میں دی گئی درخواستیں، بیانات اور تحفظ کی دہائیاں بھی کسی شہری کی جان محفوظ نہیں بنا سکتیں تو پھر قانون کی عمل داری کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے؟
پولیس کا بنیادی فرض جرم کی تفتیش کرنا، شواہد اکٹھے کرنا اور ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے۔ پولیس نہ مدعی ہے، نہ جج اور نہ ہی جلاد۔ کسی شخص کے مجرم ہونے یا بے گناہ ہونے کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، کسی پولیس افسر یا ادارے نے نہیں۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9، 10 اور 10-A ہر شہری کو زندگی، آزادی اور منصفانہ قانونی کارروائی کا تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کسی شخص پر سنگین الزام بھی اسے ماورائے عدالت قتل کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ اگر ملزم خطرناک ہے تو قانون موجود ہے، اگر وہ مسلح ہے تو پولیس کے پاس دفاع اور گرفتاری کے قانونی طریقے موجود ہیں، لیکن کسی زیرِ تفتیش یا زیرِ سماعت شخص کو موت کے گھاٹ اتار دینا قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ہے۔
یہاں سوال صرف گولی چلانے والے اہلکاروں سے نہیں بلکہ ان افراد سے بھی ہے جو مبینہ طور پر ایسے قتل کے احکامات دیتے، ان کی منظوری دیتے یا ان کے سرپرست بنتے ہیں۔ آخر وہ کون سی ذہنیت ہے جو کسی انسان کی زندگی ختم کرنے کے فیصلے کو ایک معمولی انتظامی کارروائی سمجھتی ہے؟ کیا کسی شخص کو محض ناپسندیدہ، خطرناک یا ناقابلِ برداشت سمجھ لینا اس کی موت کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے؟ انسانی زندگی کے خاتمے کا حکم دیتے وقت کیا ان فیصلہ سازوں کو ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایک انسان کی نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کی دنیا اجاڑنے کا فیصلہ کر رہے ہیں؟ کیا ان کے اندر خوفِ خدا، انسانی ہمدردی، اخلاقی احساس اور قانون کا احترام باقی ہے، یا مسلسل طاقت، اختیار اور عدمِ جواب دہی نے ان کے اندر سے انسانی زندگی کی حرمت کا احساس ہی ختم کر دیا ہے؟
یہ طرزِ عمل محض انتظامی سخت گیری نہیں بلکہ ایک خطرناک اور غیر انسانی ذہنیت کی علامت ہے۔ جب کسی شخص کے لیے دوسرے انسان کی موت ایک معمولی فیصلہ بن جائے، جب گولی کو عدالتی فیصلے کا متبادل سمجھ لیا جائے اور جب کسی شہری کی زندگی چند افراد کی مرضی سے مشروط ہو جائے تو ایسے فیصلہ سازوں کی ذہنی کیفیت، اخلاقی رویے اور اختیار کے استعمال کا سنجیدہ جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا ایسے غیر معمولی اختیارات استعمال کرنے والوں کے فیصلوں پر کوئی نفسیاتی، اخلاقی یا ادارہ جاتی جانچ اور نگرانی موجود ہے؟ کسی طبی تشخیص کے بغیر کسی فرد کو باقاعدہ ذہنی مریض قرار دینا درست نہیں، لیکن انسانی زندگی سے اس درجے کی بے نیازی کو معمول کا انتظامی رویہ بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کسی شخص کو موت کے حوالے کرنے سے پہلے نہ اسے وصیت کی مہلت ملتی ہے، نہ اپنے اہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا موقع، نہ غسل و وضو کی تیاری، نہ لواحقین سے آخری ملاقات۔ ایک شخص جس کے خلاف مقدمہ زیرِ سماعت ہو، جس کی زندگی اور موت کا فیصلہ ابھی عدالت نے کرنا ہو، اسے مبینہ طور پر چند لمحوں میں زندگی سے محروم کر دیا جائے تو اس کے پیچھے رہ جانے والے خاندان کو نہ انصاف کا انتظار کرنے کا موقع ملتا ہے اور نہ اپنے عزیز سے آخری بار بات کرنے کا۔ یہ محض ایک انسان کی موت نہیں بلکہ اس بنیادی اصول کی نفی ہے کہ کسی شہری کی زندگی کا فیصلہ عدالت کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔
اس تمام صورتِ حال میں عدلیہ کا کردار بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔ اگر کسی ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے، وہ اپنی جان کو خطرہ ظاہر کرے، اس کے اہلِ خانہ تحفظ کی درخواستیں دیں اور پھر وہی شخص پولیس کارروائی میں مارا جائے تو اس کے بعد عدالتی نگرانی اور جواب دہی کا سوال کیوں نہ اٹھے؟ کیا عدالتی ریمانڈ محض کاغذی کارروائی رہ گیا ہے؟ کیا مجسٹریٹ کی ذمہ داری صرف ریمانڈ منظور کرنے تک محدود ہے؟ کیا عدالتوں کو یہ معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے حکم پر جیل یا پولیس تحویل میں جانے والا شخص کس حال میں ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
کاش کوئی ایک مجسٹریٹ، کوئی ایک سیشن جج یا کوئی ایک ہائی کورٹ کا جج اس صورتِ حال پر ایسا واضح اور مؤثر مؤقف اختیار کرے جو ریاستی اداروں کو یہ احساس دلا سکے کہ شہریوں کی جان کی حفاظت محض ایک رسمی ذمہ داری نہیں بلکہ آئینی فریضہ ہے۔ بار ایسوسی ایشنز بھی آخر کب تک خاموش تماشائی بنی رہیں گی؟ کیا وکلا کا کردار صرف عدالتی کارروائیوں، انتخابات اور عہدوں تک محدود رہ گیا ہے؟ لاہور بار، پنجاب بار کونسل اور دیگر نمائندہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر مشترکہ اور مؤثر آواز بلند کریں۔ اگر کسی شہری کی زندگی اور موت کا فیصلہ عدالت کے بجائے سڑک پر ہونے لگے تو وکلا کی خاموشی خود ان کے پیشے کے بنیادی مقصد پر سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ بار کے صدر اور عہدیداران کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر عملی قیادت کریں اور پْرامن احتجاج کے ذریعے حکومت سے جواب طلب کریں۔
اس معاملے میں صرف نچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنا دینا بھی انصاف نہیں ہوگا۔ اگر کسی مبینہ جعلی مقابلے کے پیچھے اعلیٰ افسران، سیاسی سرپرستی یا انتظامی فیصلے موجود ہیں تو ان سب کا تعین ہونا چاہیے۔ آزادانہ تحقیقات، پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد، جائے وقوعہ کی جانچ، پولیس تحویل اور نقل و حرکت کا ریکارڈ اور متعلقہ احکامات کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مقابلے کی پریس ریلیز میں کیا لکھا گیا، سوال یہ ہے کہ حقیقت کیا ہے؟ کس نے حکم دیا؟ کس نے منظوری دی؟ کس نے عمل درآمد کیا؟ اور اگر قتل ہوا ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ جب تک جواب دہی کا دائرہ حکم دینے والوں اور سرپرستی کرنے والوں تک نہیں پہنچے گا، ایسے واقعات کا
سدباب ممکن نہیں۔
صحافت کا کردار بھی اس موقع پر انتہائی اہم ہے۔ صحافیوں کو صرف پولیس کی جاری کردہ پریس ریلیز نشر کرنے کے بجائے سوال اٹھانے چاہییں۔ مقتول کو کہاں سے گرفتار کیا گیا تھا؟ اسے کس عدالت میں پیش کیا گیا؟ وہ کس کی تحویل میں تھا؟ اس کی موت سے پہلے اور بعد کے حالات کیا تھے؟ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ کیا کہتی ہے؟ کیا اہلِ خانہ کا مؤقف لیا گیا؟ کیا کسی آزاد ادارے نے تحقیقات کیں؟ صحافت کا کام طاقتور کی کہانی دہرانا نہیں بلکہ اس کہانی کے ان پہلوؤں کو سامنے لانا ہے جنہیں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ اگر صحافی سوال کرنا چھوڑ دیں اور خبر صرف سرکاری بیان تک محدود ہو جائے تو پھر مظلوم کی آواز کون بنے گا؟
اہلِ قلم، ادیبوں، شاعروں، نقادوں اور دانش وروں سے بھی سوال ہے کہ معاشرے میں انسانی جان کی حرمت پامال ہو رہی ہو تو ان کی آواز کہاں ہے؟ کیا ان کی تمام فکری سرگرمیاں مشاعروں، ادبی تقریبات، ایوارڈز، کتابوں کی رونمائی اور باہمی تعریف و توصیف تک محدود ہو چکی ہیں؟ کیا قلم کا فرض صرف خوب صورت الفاظ تخلیق کرنا ہے یا ظلم کے سامنے سچ بولنا بھی ہے؟ جس معاشرے میں ایک شہری کی جان محفوظ نہ ہو، وہاں ادب اور دانش کی خاموشی بھی ایک معنی رکھتی ہے۔ اہلِ قلم کو کم از کم اتنا تو کرنا چاہیے کہ وہ مقتول کے نام، اس کے خاندان کے دکھ اور اس کے لیے انصاف کے مطالبے کو اپنی تحریروں اور آواز کا حصہ بنائیں۔
اور ان خوشامدیوں کا کیا ذکر کیا جائے جو ہر دور میں طاقت کے سامنے سر جھکانے اور ہر فیصلے پر تالیاں بجانے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ جب درباری تالیاں بجانے لگیں تو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو اپنے ہر فیصلے پر واہ واہ سنائی دیتی ہے، مظلوم کی چیخ سنائی نہیں دیتی۔ ایسے لوگ حکمرانوں کو حقیقت سے دور اور طاقت کے نشے میں مبتلا رکھنے کا سبب بنتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم پر خاموشی اور ظالم کی تعریف، دونوں معاشرے کو انصاف سے دور لے جاتے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور یورپی یونین، برطانیہ سمیت دیگر عالمی اداروں سے بھی سوال ہے کہ پاکستان میں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں اور دورانِ حراست اموات پر ان کی آواز کتنی مؤثر ہے؟ انسانی حقوق کا تحفظ کسی مخصوص سیاسی یا جغرافیائی مسئلے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی ملک میں سزائے موت کے معاملے پر اصولی مؤقف اختیار کیا جاتا ہے تو کسی شہری کو عدالتی فیصلے کے بغیر قتل کیے جانے کے خدشات پر بھی اسی سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔ انسانی جان کی حرمت سرحدوں، قومیتوں اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہے۔
عدالتیں اگر کتوں کو مارنے کے واقعات پر نوٹس لیتی ہیں تو یہ اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے، جانوروں کے ساتھ ظلم کی روک تھام بھی ضروری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب زندہ انسانوں کی جانیں مبینہ طور پر پولیس کارروائیوں میں ختم ہو رہی ہوں تو عدالتی اور ریاستی سطح پر وہی فوری حساسیت کیوں دکھائی نہیں دیتی؟ یہ سوال جانوروں کے حقوق کے خلاف نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تحفظ اور ریاستی ترجیحات کے بارے میں ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں ہر جان کی حرمت ہوتی ہے، مگر انسان کی زندگی اور اس کے آئینی حقوق کی حفاظت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
اس سنگین صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے محض مذمتی بیانات کافی نہیں، ایک مشترکہ اور قابلِ عمل قومی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ سب سے
پہلے ایسے ہر ملزم یا اس کے اہلِ خانہ کی جانب سے جان کو خطرے کی درخواست دیے جانے پر متعلقہ عدالت فوری نوٹس لے اور پولیس تحویل کے دوران اس کے تحفظ کے لیے واضح احکامات جاری کرے۔ عدالتی ریمانڈ پر موجود افراد کی حفاظت اور ان کی تحویل کے حالات کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے۔
دوسرے مرحلے میں ہر مشتبہ پولیس مقابلے اور دورانِ حراست ہلاکت کی تحقیقات متعلقہ پولیس افسران سے آزاد ادارے کے ذریعے کروائی جائیں۔ پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد، جائے وقوعہ، سی سی ٹی وی فوٹیج، گرفتاری اور تحویل کا ریکارڈ محفوظ کیا جائے تاکہ حقائق کو تبدیل یا چھپایا نہ جا سکے۔ صرف موقع پر موجود اہلکاروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے مبینہ احکامات دینے، منظوری دینے اور سرپرستی کرنے والے اعلیٰ افسران کا بھی تعین کیا جائے۔
تیسرے مرحلے میں پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل، لاہور بار اور دیگر بار ایسوسی ایشنز مشترکہ کمیٹی تشکیل دیں، متاثرہ خاندانوں کو قانونی معاونت فراہم کریں اور اس مسئلے پر مؤثر آواز اٹھائیں۔ وکلا کی نمائندہ تنظیمیں پْرامن احتجاج، سیمینارز اور قانونی جدوجہد کے ذریعے حکومت اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب کریں۔
چوتھے مرحلے میں صحافتی تنظیمیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں، دانش ور اور اہلِ قلم ایسے واقعات کی آزادانہ پیروی کریں۔ ہر کیس کے حقائق، متاثرہ خاندان کا مؤقف، عدالتی کارروائی اور تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔ کسی بھی سرکاری پریس ریلیز کو حتمی حقیقت تسلیم کرنے کے بجائے اس کی آزادانہ تصدیق کی جائے۔
پانچویں مرحلے میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس معاملے پر سنجیدہ بحث کی جائے، پولیس مقابلوں اور دورانِ حراست اموات کا شفاف ریکارڈ مرتب کیا جائے اور متعلقہ حکام سے باقاعدہ جواب طلبی کی جائے۔ جہاں ماورائے عدالت قتل یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آئیں، وہاں بلاامتیاز فوجداری کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور قانونی داد رسی فراہم کی جائے۔
آخر میں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ پولیس مقابلے میں مرنے والا شخص اگر واقعی مجرم بھی ہو تو اسے سزا دینے کا اختیار عدالت کے پاس ہے، پولیس کے پاس نہیں۔ ریاست کا اصل امتحان خطرناک ملزم کو مار گرانا نہیں بلکہ اسے قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالت سے سزا دلوانا ہے۔ ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں مجرم قانون سے نہ بچ سکے اور بے گناہ کسی بااختیار شخص کی مرضی سے قتل نہ ہو۔ یہی قانون کی حکمرانی، یہی انسانی حقوق کا تحفظ اور یہی ایک مہذب ریاست کی پہچان ہے۔
یہ محض چند افراد کے قتل کا معاملہ نہیں، چند ذہنی مریضوں کے ہاتھوں انسانی زندگی اور موت کے اختیار کی منتقلی، نظامِ انصاف کی رحلت، صحافت کے فالج، وکالت کی بے حسی، اہلِ قلم کی بے عملی اور خوشامدیوں کی فتح کا نوحہ ہے۔ جس معاشرے میں گولی فیصلے کی جگہ لے لے، افسر کی مرضی قانون سے بڑی ہو جائے، صحافی سوال کرنا چھوڑ دیں، ادیب قلم رکھ دیں اور خوشامدی ظلم پر تالیاں بجانے لگیں، وہاں صرف انسان نہیں مرتے، پورا نظامِ انصاف مر جاتا ہے