(مصطفیٰ جہانگیر بھٹی / نئی سمتیں)
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ، پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترمیمی بلوں کی منظوری کے بعد ملک میں مختلف سیاسی، دفاعی اور عدالتی شعبوں میں نئی تبدیلیوں کا آغاز ہوا ہے۔ بل میں خاص بات یہ ہے کہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدتِ ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کردی گئی ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کو 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کا بھی بل منظور کیا گیا ہے، جو اعلیٰ عدلیہ کی کارکردگی پر اہم اثرات ڈالے گا۔
ترامیم کے ممکنہ اثرات اور مقاصد
مسلح افواج کی سربراہی کی مدت میں اضافے کا فیصلہ کئی لحاظ سے اہم ہے۔ یہ فیصلہ استحکام کی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ عسکری قیادت کو اپنے عہدوں پر زیادہ وقت مل سکے اور وہ اپنی پالیسیوں کو موثر انداز میں نافذ کرسکیں۔ بڑھتی ہوئی علاقائی اور داخلی چیلنجز کے پیش نظر پاکستان کے لیے یہ اقدام نہ صرف دفاعی استحکام کا باعث بنے گا بلکہ عسکری قیادت کو دیرپا فیصلے کرنے میں بھی معاون ہوگا۔
اسی طرح سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ عدلیہ کی کارکردگی اور زیرِ التواء مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس اضافے سے عدلیہ میں مقدمات کے نمٹانے کی رفتار میں تیزی آئے گی اور عوام کو جلد انصاف مل سکے گا۔بلوں کی منظوری کے دوران پارلیمان میں سخت کشیدگی دیکھنے کو ملی۔ اپوزیشن نے اس بل کے خلاف شدید احتجاج کیا، اسپیکر ڈائس کے سامنے نعرے بازی کی اور بلز کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ حکومتی اراکین نے وزیراعظم کی نشست کو گھیرے میں لے کر اپوزیشن کے ردعمل کو روکنے کی کوشش کی، جس سے دونوں جماعتوں کے اراکین کے درمیان تلخی بھی پیدا ہوئی۔قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے کے دوران اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج اور نعرے بازی کی حکومتی اور اپوزیشن اراکین گتھم گتھا ہوگئے۔
امیر مقام، حنیف عباسی، عطا تارڑ وزیراعطم کی نشست کے اردگرد موجود تھے، شاہد خٹک اور ذوالفقار بھٹی نے بھی ایک دوسرے کو دھکے دیے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اس ترمیم کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں ان ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔ یہ واضح رہے کہ حکومتی اراکین کی ایک مشترکہ حکمتِ عملی تھی، جس کے تحت انہوں نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بلوں کو پارلیمان سے منظور کروایا۔یہ کشیدگی بتاتی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اختلافات اور عدم اتفاق کا یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن کے مطابق، ان بلوں کو عجلت میں منظوری کروانا مناسب نہیں تھا، اور اس پر جامع مشاورت ہونی چاہیے تھی۔
سیاسی استحکام اور عسکری تعاون: حکومت کو اس فیصلے سے فائدہ یہ ہوگا کہ مسلح افواج کے سربراہان کے ساتھ اس کا تعلق اور بھی مضبوط ہوگا، کیونکہ ان کی مدت میں اضافے کا فیصلہ حکومت کی طرف سے آیا ہے۔ اس سے حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان مضبوط تعلق استوار ہونے کا امکان ہے۔
توسیعی منصوبہ بندی کی حکمت عملی: سربراہان کی مدت بڑھنے سے مختلف منصوبے اور پالیسیز جاری رکھنے میں آسانی ہوگی، جس سے حکومت کو اپنی مدت میں کچھ زیادہ استحکام ملے گا۔ اس میں حکومت کی پالیسیز پر عملدرآمد کا موقع بھی ملے گا جو ممکنہ طور پر طویل مدتی فوائد لا سکتا ہے۔
قومی دفاع کی مضبوطی: حکومت اس فیصلے کو قومی دفاع کو مضبوط بنانے کے ایک قدم کے طور پر پیش کر سکتی ہے، جس سے عوامی تائید حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
عدلیہ میں استحکام: سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد میں اضافہ حکومت کو عدلیہ کی تیز اور مؤثر کارکردگی کا تاثر دینے میں مددگار ہوگا۔ حکومت عوام کو یہ پیغام دے سکتی ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
اپوزیشن کو نقصان
عسکری قیادت پر اثر ڈالنے کی محدودیت: اس ترمیم کے بعد اپوزیشن کا اثر و رسوخ عسکری قیادت پر مزید محدود ہو سکتا ہے، کیونکہ موجودہ حکومت کے فیصلے کے مطابق سربراہان کے عہدے کا دورانیہ بڑھایا گیا ہے۔ اس سے اپوزیشن کے پاس حکومت پر تنقید کرنے اور تبدیلی کا مطالبہ کرنے کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔
عوامی دباؤ میں اضافہ: اپوزیشن نے ان ترامیم کے خلاف پارلیمان میں سخت احتجاج کیا تھا۔ اب، اگر عوامی رائے اس فیصلے کے خلاف ہو جاتی ہے تو اپوزیشن کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ وہ اس وقت احتجاج میں ناکام نظر آ رہی ہے۔
نئے انتخابات میں تاخیر کے خدشات: کچھ حلقے اس ترمیم کو آئندہ انتخابات میں تاخیر کی کوشش کے طور پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اپوزیشن کے لیے یہ چیلنج بن سکتا ہے کہ وہ عوام کو اس بات پر قائل کرے کہ ان ترامیم کے نتائج جمہوری اصولوں کے مطابق نہیں۔
عدلیہ میں اثرورسوخ کی کمی: ججز کی تعداد میں اضافہ حکومت کے حق میں جا سکتا ہے، اور اپوزیشن کے لیے ممکن ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں پر اثر ڈالنا یا ان کی ترجیحات کو اپنے حق میں استعمال کرنا مشکل ہو جائین ترامیم کے حوالے سے عوامی سطح پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ دفاعی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عسکری قیادت کے دورانیے میں اضافہ ملک کی سلامتی کے لیے ضروری تھا۔ تاہم، کچھ حلقے عدلیہ میں ججز کی تعداد بڑھانے کے فیصلے کو مثبت قرار دے رہے ہیں تاکہ انصاف کی فراہمی میں تیزی آئے۔ دوسری طرف، عوامی حلقوں میں یہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا ان تبدیلیوں کے ذریعے جمہوریت اور شفافیت کو تقویت ملے گی یا سیاسی استحکام پر کوئی اثر پڑے گا؟ان ترامیم سے حکومت کو فوری اور طویل مدتی فائدے ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ ترمیم اسے عسکری قیادت کے ساتھ بہتر تعلقات اور انتظامی استحکام فراہم کرے گی۔ اپوزیشن کو اس فیصلے کے سیاسی اثرات کا سامنا کرنا ہوگا اور انہیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ وہ آئندہ انتخابات میں ان ترامیم کو حکومت کے خلاف استعمال کر سکیں۔