ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے، اور افغان حکام کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اپنی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔
ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان پر کوئی جنگ مسلط نہیں کی بلکہ یہ جنگ پاکستان پر تھوپی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنا نظام بچانا چاہتے ہیں یا تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا ساتھ دے کر خود کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ دوحہ معاہدہ میں وعدہ کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں خودکش حملے کی کوئی گنجائش نہیں اور ایسے اقدامات کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان کسی کو بھی اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی اجازت نہیں دے سکتا، کیونکہ اس کی قیمت صرف متاثرہ خاندان نہیں بلکہ پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن غضب اللحق کے بعد سرحد پار دہشت گردی میں کمی آئی ہے، تاہم پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ بات چیت اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا اور اس میں کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔