خیبر پختون خوا: آپریشن غضب للحق کے بعد دہشت گردی میں 65 فیصد کمی، صوبائی و وفاقی ادارے مشترکہ کارروائیوں میں سرگرم

خیبر پختون خوا: آپریشن غضب للحق کے بعد دہشت گردی میں 65 فیصد کمی، صوبائی و وفاقی ادارے مشترکہ کارروائیوں میں سرگرم

خیبر پختون خوا میں آپریشن غضب للحق کے آغاز کے بعد صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

 پولیس اور حکومتی ذرائع کے مطابق، سال کے آغاز سے قبل صوبے میں 240 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے، لیکن آپریشن کے بعد سے یہ تعداد صرف 80 تک محدود رہی، جو کہ 65 فیصد کمی کی عکاسی کرتی ہے۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے سے صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور آپریشن کے دوران متعدد دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ مارے گئے ہیں۔ افغانستان کی عبوری حکومت نے بھی دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کی نشاندہی میں تعاون فراہم کیا۔

چیف سیکریٹری خیبر پختون خوا شہاب علی شاہ نے کہا کہ آپریشن کے مثبت اثرات صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال پر پڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں اور حکومت اس مقصد کے لیے ایک پیج پر ہے۔حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، صوبے میں رواں سال مجموعی طور پر 323 دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں، جن کی دستاویزی تفصیلات موجود ہیں۔ اس کامیابی کے باوجود حکام نے مزید محتاط رہنے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مستقل نگرانی اور کارروائیاں جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔