سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی درخواست پر فیصلہ کیا گیا ‘ 23، 24 مارچ کی درمیانی شب تک فیصلہ موثر ہوگا‘اس دوران حملہ ہوا تو فوری آپریشن دوبارہ شروع کردیا جائیگا
قاسم اور سلیمان کو ویزے کی ضرورت نہیں وہ نائیکوپ پر پاکستان آسکتے ہیں، پاکستان آکر قوانین کی پاسداری کے پابند ہوں گے:وفاقی وزیراطلاعات کا ایکس پر بیان
اسلام آباد(آن لائن ‘آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے عید الفطر کے پیش نظر اور برادر اسلامی ممالک کی اپیل پر آپریشن غضب للحق عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کر لیا۔سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا عید الفطر کے پیش نظر آپریشن غضب للحق کے دوران عارضی وقفہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ وقفہ 18، 19 مارچ کی درمیانی شب سے لے کر 23، 24 مارچ کی درمیانی شب تک موثر ہوگا۔ پاکستان یہ اقدام نیک نیتی اور اسلامی اقدار کے مطابق پیش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی سرحد پار حملے، ڈرون حملے یا پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعے کی صورت میں "آپریشن غضب للحق" فوری طور پر مزید شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔عطا اللہ تارڑنے کہا ہے کہ ماضی کی طرح بانی پی ٹی آئی کی عید کے دن اپنے بچوں سے فون پر بات کروائی جائے گی، وہ نائیکوپ پر ویزے کے بغیر پاکستان آسکتے ہیں مگر قانون کی پابندی کرنا ہوگا۔ جمائما گولڈ اسمتھ کی ٹویٹ نے جواب میں وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ماضی کی طرح بانی پی ٹی آئی کی عید کے دن اپنے بچوں سے فون پر بات کروائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ان کے بچوں کو پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اپنے NICOP کارڈز پر پاکستان آنے کی اجازت ہے اور انہیں ویزا کی ضرورت نہیں ہو گی۔تاہم، وہ اپنے قیام کے دوران پاکستان کے قوانین کی مکمل پابندی کریں گے۔