وزیر اعظم کا پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان

وزیر اعظم کا پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں جاری رہا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے اہم خطاب کیا اور ایوان میں مختلف سیاسی و قومی امور پر اظہار خیال کیا۔

وزیراعظم کا خطاب
وزیراعظم نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت بخشی ہے اور پوری قوم اس پر مبارکباد کی مستحق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام گونج رہا ہے اور اگر ایوان اس حوالے سے متفقہ قرارداد منظور کرے تو دنیا کو اتحاد کا پیغام جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی معاملات پر سب کو متحد ہونا چاہیے۔ وزیراعظم کے مطابق حالیہ عالمی امن پیش رفت میں پاکستان کا کردار قابلِ ذکر رہا ہے، اور انہوں نے اس میں اہم کردار ادا کرنے والوں کو سراہا۔

عسکری و حکومتی کردار کا ذکر
وزیراعظم نے کہا کہ اس عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار کلیدی رہا اور انہوں نے مشکل وقت میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے کردار کو بھی سراہا۔

بجٹ بحث اور اسپیکر کی وضاحت
اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کو بتایا کہ بجٹ بحث میں اپوزیشن ارکان نے مقررہ وقت سے زیادہ تقریریں کیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن کو 9 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا لیکن انہوں نے 14 گھنٹے سے زائد وقت استعمال کیا۔اسپیکر نے کہا کہ حکومت کو بھی اظہار خیال کا موقع دیا گیا لیکن بعض حکومتی ارکان اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اجلاس کو جمعہ سے قبل ملتوی کیا جائے گا۔

اپوزیشن اور دیگر ارکان کی گفتگو
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما  راجہ پرویز اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور عالمی سطح پر اس کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے کم از کم 10 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں معاشی مشکلات کے باوجود تنخواہوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔انہوں نے زور دیا کہ ملک میں سیاسی استحکام، مذاکرات اور مفاہمت ناگزیر ہیں تاکہ معیشت بہتر ہو اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔

آزاد کشمیر پر گفتگو
راجہ پرویز اشرف نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ وہاں مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے بھی بیشتر مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی امور پر بات چیت جاری رہنی چاہیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں کشیدگی سے بیرونی قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں، اس لیے مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرنا ضروری ہے۔

مجموعی صورتحال
اجلاس میں بجٹ بحث، سیاسی تقاریر اور پالیسی معاملات پر تفصیلی گفتگو جاری رہی، جبکہ ایوان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے مختلف نکات پر اپنی اپنی آراء پیش کی گئیں۔