چین میں پیٹرول کی طلب میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں کھپت میں 5.5 فیصد کمی سامنے آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق طلب میں کمی کی ایک بڑی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ بتایا جا رہا ہے، جو مبینہ طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران سے متعلق صورتحال کے باعث بڑھا ہے۔ اس کے علاوہ چینی حکومت کی جانب سے الیکٹرک اور متبادل توانائی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی بھی اس رجحان کی ایک اہم وجہ قرار دی جا رہی ہے۔دوسری جانب بھارت میں خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، جہاں چار سال بعد پہلی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
نئی قیمتوں کے مطابق ڈیزل اور پیٹرول دونوں کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں ڈیزل کی قیمت 90.67 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول 97.77 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جو مئی 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ماہرین کے مطابق عالمی توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ نہ صرف بڑے ایشیائی ممالک بلکہ عالمی معیشت اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔