ایران اور امریکا کے درمیان مبینہ جنگ بندی یا امن معاہدے میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا، اور اس حوالے سے بھارت میں خاص طور پر مودی حکومت پر اپوزیشن اور بعض میڈیا حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی جریدے دی ٹریبیون سے منسوب ایک بیان میں کانگریس کے جنرل سیکرٹری جے رام رمیش کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس مبینہ معاہدے کو “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” سے جوڑنا پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ اسی طرح بھارتی میڈیا کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پر تشویش پائی جا رہی ہے اور مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔البتہ یہ بات اہم ہے کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی امن معاہدوں اور ثالثی کے دعوؤں کی آزادانہ اور سرکاری سطح پر تصدیق ضروری ہوتی ہے، کیونکہ ایسے معاملات میں مختلف سیاسی اور میڈیا بیانیے اکثر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔