سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیکس تجاویز کی منظوری دے دی؛ ایک کروڑ سے زائد سالانہ پینشن پر ٹیکس لگے گا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیکس تجاویز کی منظوری دے دی؛ ایک کروڑ سے زائد سالانہ پینشن پر ٹیکس لگے گا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا، جس میں مالی سال 2024-25 کے بجٹ سے متعلق متعدد ٹیکس تجاویز پر غور کیا گیا اور کچھ اہم تجاویز کو منظور کر لیا گیا۔

 ایک کروڑ سے زائد سالانہ پینشن پر ٹیکس کی منظوری:
قائمہ کمیٹی نے ایسی پینشنز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کرلی جو سالانہ ایک کروڑ روپے سے تجاوز کرتی ہیں۔یہ اقدام اعلیٰ درجے کے پینشن یافتگان پر ٹیکس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی کوشش ہے۔

 بین الاقوامی کھلاڑیوں کے لیے انکم ٹیکس میں چھوٹ:
کمیٹی نے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو انکم ٹیکس میں چھوٹ دینے کی تجویز بھی منظور کر لی، جس کا مقصد پاکستان میں کھیلوں کو فروغ دینا اور عالمی سطح کے مقابلوں میں شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

 خصوصی اقتصادی و ٹیکنالوجی زونز کے لیے ٹیکس چھوٹ:
کمیٹی نے اقتصادی زونز اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (STZs) کو بھی ٹیکس میں رعایت دینے کی تجاویز کی منظوری دے دی۔اس موقع پر سینیٹر انوشہ رحمٰن نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"ہم نے خصوصی ٹیکنالوجی زونز کا صرف پودا لگایا ہے، حکومت نے ابھی سے ٹیکس چھوٹ واپس لے لی ہے، یہ زونز کو نقصان دے گا۔"
 ایف بی آر کا مؤقف:
چیئرمین ایف بی آر نے اجلاس میں واضح کیا کہ حکومت کا رجحان مجموعی طور پر ٹیکس چھوٹ کے خاتمے کی طرف ہے:"جہاں جہاں ٹیکس چھوٹ ہے، اسے ختم کر رہے ہیں۔"
 پس منظر:
یہ فیصلے بجٹ 2024-25 کی تیاریوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد ٹیکس بیس میں اضافہ، محصولات میں بہتری، اور مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دینا ہے۔اس دوران ٹیکنالوجی اور کھیلوں کے شعبوں کو جزوی ریلیف دے کر توازن قائم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔