سپریم کورٹ کے دو ججز، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد نے ججز ٹرانسفر کیس میں اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کا تبادلہ بدنیتی پر مبنی تھا اور اسے کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔
اختلافی نوٹ کی تفصیلات:
ججز نے رائے دی کہ صدر مملکت نے ججز کی ٹرانسفر میں آئین کی خلاف ورزی کی۔
تبادلہ ہوکر آنے والے ججز کو آئین کے مطابق مستقل طور پر تعینات نہیں کیا جا سکتا۔
ٹرانسفر کے وقت کوئی معینہ مدت مقرر نہیں کی گئی، نہ ہی وجوہات بیان کی گئیں۔
جلد بازی اور غیر شفافیت کو اس فیصلے کی بنیاد قرار دیا گیا۔
اکثریتی فیصلہ:
جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس بلال شاہد اور جسٹس صلاح الدین پہنور کے دستخط شدہ فیصلے کے مطابق:
جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کا تبادلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔
ججز ٹرانسفر کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار نہیں دیا جا رہا۔
جب تک صدر مملکت سنیارٹی کا مسئلہ حل نہیں کرتے، سردار سرفراز قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔