ویب ڈیسک:سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14 اور ایف 15 میں ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اس معاملے پر فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو اس کیس کو دوبارہ دیکھنے کی ہدایت دی۔یہ فیصلہ جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایا، جس میں جسٹس عائشہ ملک نے مختصر فیصلہ دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے میں پلاٹس کی اسکیم کو غیر آئینی اور عوامی مفاد کے خلاف قرار دیا تھا، جس کا فیصلہ 6 ماہ بعد سنایا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فروری 2022 میں سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے ذریعے سیکٹر ایف 14 اور ایف 15 کی اسکیم کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ عدالت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ریاست کی زمین صرف عوامی مفاد کے لیے مختص ہے، نہ کہ اشرافیہ کے لیے۔اس فیصلے کے خلاف فیڈرل گورنمنٹ ہاؤسنگ اتھارٹی اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔ ان اسکیموں کے تحت سیکٹر ایف 14 اور ایف 15 میں ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹس دیے گئے تھے۔ ان پلاٹوں میں شامل افراد میں سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال، گلزار احمد، انور ظہیر جمالی، امیر ہانی مسلم، خلجی عارف حسین اور دیگر شامل تھے۔