اسلام آباد / راولپنڈی: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر پاکستان میں بھی محسوس کیا جانے لگا ہے، جہاں ایرانی مصنوعات کی درآمد اور فراہمی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔
بلوچستان کے زمینی راستے بند ہونے یا محدود ہونے کے باعث پاکستانی مارکیٹوں میں ایرانی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔راولپنڈی کی مشہور ایران مارکیٹ کے تاجر اس صورتحال سے خاصے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی مصنوعات کی ترسیل تقریباً رک گئی ہے، اور جب تک مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں بہتری نہیں آتی، کاروبار پر منفی اثرات برقرار رہیں گے۔
صارفین بھی متاثر:
خریداروں کا کہنا ہے کہ ایرانی مصنوعات کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ وہ دیگر بین الاقوامی اشیاء کے مقابلے میں 50 فیصد تک سستی تھیں، اور معیار کے لحاظ سے بھی بہتر تصور کی جاتی تھیں۔ اب ان اشیاء کی قلت سے نہ صرف ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ دیگر متبادل مہنگی درآمدی مصنوعات بھی مارکیٹ پر حاوی ہو رہی ہیں۔
طلب میں کمی نہیں، سپلائی رکی ہوئی ہے:
ایرانی اشیاء میں دودھ، مکھن، شہد، چاکلیٹ، کیک، بسکٹ، مشروبات، نوڈلز، زیتون، صابن، پرفیوم، شیمپو، کاسمیٹکس، دالیں، اچار، گھی، آئل، اور مصالحے شامل ہیں، جنہیں پاکستانی صارفین معیار، ذائقے اور قیمت کے باعث ترجیح دیتے ہیں۔
تاجر برادری کی اپیل:
تاجروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ایران کے ساتھ سرحدی تجارتی راستوں کی سیکیورٹی اور رسائی سے متعلق اقدامات کرے تاکہ درآمدات بحال کی جا سکیں اور مارکیٹ میں مصنوعی قلت اور مہنگائی سے بچا جا سکے۔حالیہ صورتحال اگر برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں ایرانی اشیاء ناپید ہونے اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔