امریکہ‘ایران جنگ--دنیا کی معیشت اور امن دائو پر لگ گیا

طلعت بٹ
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل امریکہ اور ایران جنگ میں شدت اقوام عالم کے لئے بہت سے حوالوں سے تشویش کا باعث بنی ہوئی ھے کہیں انا تو کہیں خوف نے پوری دنیا کی معیشت اور امن کو داؤ پر لگایا ہوا ھے۔اس جنگ کا کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہوگا یہ تو وقت کے ساتھ ساتھ عیاں ھوتا جائے گا۔اس حوالے سے ایک محتاط اندازے کے مطابق کم از کم 1300 سے زاید افراد اس جنگ کا لقمہ اجل بن چکے ہیں۔دنیا میں کہیں بھی جنگی طاقت سے کسی بھی ملک میں حکومت کی تبدیلی یا عوام کے دل جیتنے کی مثال نہیں ملتی ہے۔2003 میں امریکہ اور برطانیہ نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ صدام حسین کو ہٹانے کے لیے بڑی تعداد میں زمینی فوجیں عراق بھیجیں۔اور اسکے بعد 2011 میں لیبیا کے کرنل معمر قذافی کو طاقت کی مدد سے مسلح باغی افواج نے ہٹایا تھا جنہیں نہ صرف نیٹو اور خلیجی ممالک نے مسلح کیا تھا بلکہ اْن کی فضائی افواج نے باغیوں کو تحفظ بھی فراہم کیا تھا۔اب دیکھیئے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کر دیا۔ اور پھر بھی اپنے مفادات کو حاصل نہیں کر پایا۔ٹرمپ کا منصوبہ ایک بہت بڑا جوا تھا ! صرف بمباری کے ذریعے حکومت کی تبدیلی جیسا کام ! شاید امریکہ اور اسرائیل کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ اس مشکل کام کے  راستے میں بہت سی مشکلات بھی آ سکتی ہیں جن سے نمٹنا کسی بڑے خطرے سے کم نہیں۔اب آیئے ایران کی جانب کہ کیا ایران کے اندر سے ہی کوئی مغرب نواز بغاوت ?و رھی ھے؟ یہ ناممکن تو نہیں، لیکن جنگ کے بعد اس کے بہت زیادہ امکان نظر نہیں آ رہے۔اس بات کا امکان زیادہ نظر آ رہا ھے کہ جو ابھی حکومت چلا رہے ہیں وہ اپنے اس نظریے اور یقین پر بھروسہ کرتے ہوئے کہ وہ امریکہ، اسرائیل یا عرب خلیجی ریاستوں سے زیادہ تکلیفیں سہہ سکتے ہیں، اپنے جگہ پر ڈٹے ہوئے ھیں۔اور اسکی سب سے زیادہ تکلیف ایرانی عوام کو سہنی پڑ رھی ھے۔اب ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ہمسایہ خلیجی ممالک پر جوابی حملے کرنے کے فیصلے کے ساتھ ہی یہ جنگ علاقائی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جبکہ برطانیہ نے بھی بالآخر امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے اور سپین نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ایران پر اتحادیوں کے شدید حملوں کے بعد یہ جنگ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، ابھی اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ یہ جنگ کب اور کیسے ختم ہوگی اور کتنے وقت تک جاری رھے گی۔جنگیں ایک بار شروع ہو جائیں تو ان پر قابو پانے تک بہت کچھ کھونا بھی پڑتا ھے۔لیکن مندرجہ ذیل کچھ نتائج ہیں جو اس جنگ کو شروع کرنے والے حاصل کرنا چاہتے ھیں! ٹرمپ کے لیے کامیابی؟ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ پر ایک ویڈیو پیغام میں جنگ شروع کرنے کا اعلان کرنے کے بعد ہمیشہ کی طرح امریکی فوجی طاقت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ٹرمپ نے جب اس جنگ کا اعلان کیا تو اس وقت انھوں نے ایک طویل چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ ایران 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔دوسری جانب ٹرمپ کی طرح نیتن یاہو نے بھی ایسے بیانات جاری کیے ، جس میں اس نے ایرانی عوام کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے مائل یا اکسانے کی بھرپور کوشش کی۔مگر وہ 
ایرانی حکومت کی سکیورٹی فورسز پر قابو پانے میں ناکام رہے۔کئی دہائیوں سے قتل و غارت گری کے ماہر نیتن یاہو نہتے فلسطینیوں پر مسلسل ظلم و بربریت کی داستانیں رقم کر رھے ہیں مگر ایران کو اپنا سب سے خطرناک دشمن قرار دے رہے ہیں۔نیتن یاہو کے سر پر ایک بھوت بھی سوار ھے کہ ایشیائی مسلم ممالک میں موجود اسلامی جمہوریہ کے حکمران یہودی ریاست اسرائیل کو تباہ کرناچاہتے ہیں۔اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے بے دریغ شہری آبادیوں پر بمباری سے ہزاروں افراد تباہی و بربادی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس میں سینکڑوں طلبہ و طالبات اور اسکول عملہ بھی شامل ہیں جو میناب میں ایک اسکول پر میزائل حملے میں شہید ہوئے۔اسرائیل میں ایران اور حزب اللہ کے حملوں میں 11 افراد ہلاک ہوئے، ان میں 9 افراد بیئت شمیش پر ایرانی میزائل حملے میں مارے گئے، ایرانی حملوں میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔متحدہ عرب امارات میں اتحادی اڈوں پر حملوں سے 3 افراد جاں بحق ہوئے۔لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 77 افراد شہید ہوچکے ہیں۔اس طرح ایران، اسرائیل، خلیجی ممالک اور لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں کو ملا کر کل کم از کم 1,333 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔جبکہ دوسری جانب عالمی سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ھے۔آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکرز کی آمد و رفت رکنے کے باعث آئل سے مطلق تجارتی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں۔اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو آئندہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی صورتحال کے باعث دنیا کے کئی ممالک کو تیل کی ترسیل متاثر ہو ہوئی ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی سعودی عرب کی آرامکو آئل کمپنی کو عارضی طور پر اپنی سب سے بڑی ریفائنری بند کرنا پڑی۔سعودی عرب کے پڑوس میں واقع قطر دنیا کو گیس سپلائی کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر ایران جنگ طوالت پکڑتی ہے اور آبنائے ہرمز سے ہونے والی تجارت بدستور مشکلات کا شکار رہتی ہے تو اس صورت میں خطے کے دیگر ممالک سمیت پاکستان کے لیے ایندھن کی سپلائی کتنا بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔