طلبہ شدید ذہنی دبائوکاشکار، سال ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ مالی بوجھ بھی بڑھے گا،والدین
فوری طور پر سمَر سمسٹر آفر کیا جائے،متاثرہ طلبہ کی وزیراعلیٰ مریم نوازسے مداخلت کرنے کی اپیل
لاہور(خصوصی رپورٹر )پنجاب بھر کی مختلف جامعات میں زیر تعلیم ان طلبہ کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں جن کے امتحانات میں سپلی (Supply) آئی ہے۔ یونی ورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ان طلبہ کو سمَر سمسٹرکی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے والدین اور طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔متاثرہ طلبہ اور ان کے والدین کا کہنا ہے کہ اگر سمَر سمسٹر آفر کر دیا جائے تو بچے اپنا کورس مکمل کر کے بروقت اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے، ورنہ اگلے سال تک انتظار کرنا پڑے گا جس سے نہ صرف تعلیمی سال ضائع ہوگا بل کہ مالی بوجھ بھی بڑھے گا۔ طلبہ نے یہ شکوہ بھی کیا کہ کئی نجی یونی ورسٹیوں میں سمَر سمسٹر کی سہولت موجود ہے لیکن سرکاری اداروں میں طلبہ کو اس سہولت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔والدین کا کہنا ہے کہ وہ مہنگائی کے اس دور میں پہلے ہی تعلیمی اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور بچوں کی تعلیم میں مزید تاخیر ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔متاثرہ طلبہ اور ان کے والدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ تعلیمی اداروں کو ہدایات جاری کریں کہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر سمَر سمسٹر آفر کیا جائے تاکہ بچوں پر تعلیمی اور ذہنی دباؤ کم ہو سکے اور وہ اپنی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھ سکیں۔ہمیں انصاف چاہیے، ہمارا سال ضائع نہ کریں کے نعروں کے ساتھ طلبہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج پر مجبور ہوں گے۔