ریاست کے اندر ریاست کی کوئی گنجائش نہیں : مولانا غفور حیدری

ہماراقصور یہ ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں ،ہماری زندگیاں خطرات سے دو چار ہیں ،قومی اسمبلی میںاظہارخیال
ممبران تنقید کے بجائے بجٹ پرتجاویز دیں، ذوالفقاربھٹی، پورا بجٹ نان ڈویلپمنٹ علاقوں پر لگایا جائے،فتح اللہ
اسلام آباد(آن لائن )قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے جے یو آئی( ف) کے رہنما مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا ہے کہ ہماری زندگیاں خطرات سے دو چار ہیں،10 جون کو مولانا کے سب سے چھوٹے بیٹے اسجد محمود ڈی آئی خان سے لکی کی طرف سے آرہے تھے راستے میں چالیس پچاس لوگوں نے ان کا گھیراؤ کیا ، مولانا فضل الرحمان پر تین مرتبہ خودکش حملے ہوئے ہیں ،یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ،قومی شاہراہ پر اتنے لوگ آتے ہیں اور لوگوں کو اٹھا کے لے جاتے ہیں، ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں، قومی یکجہتی کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے، میرے لوگ شہید کئے جارہے ہیں، میں کس کے دامن پہ اپنے شہداء کا خون تلاش کروں، حکومت کس درد کی دوا ہے۔ اجلاس میں بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری ذوالفقار علی بھٹی نے کہا کہ یہ بہترین بجٹ ہے، ممبران تنقید کے بجائے تجاویز دیں ۔ رکن اسمبلی فتح اللہ نے کہا کہ پانی ایک ایسی چیز ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا ناگزیر ہے،میرے حلقے میں 75 فیصد آبادی پانی سے محروم ہے،ڈیرہ اسماعیل خان ایک زرعی علاقہ ہے،ہمارے علاقے کے منصوبے کے لیے بجٹ کم رکھا گیا کیا۔ کبھی حکومت نے گوارا کیا کہ ہمارے علاقے کی ضرورت کیا ہے ،پہاڑوں سے جو پانی آتا ہے اس کو محفوظ بنانے کے لیے ہمارے علاقے میں ڈیمز ہونے چاہییں۔لوگ پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ میں کہتا ہوں ایک پورا بجٹ نان ڈویلپمنٹ علاقوں پر لگایا جائے۔