صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ریپبلیکن اراکین کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران چار یا پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے گئے تھے:
ٹرمپ نے اس حوالے سے واضح کہا:انہوں نے یہ بیان امریکی دارالحکومت میں 18 جولائی 2025 کی تقریب میں دیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ یہ طیارے کس ملک کے تھے ۔امریکی محکمہ خارجہ اور دیگر ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا نے اپریل میں پاہلگام (کشمیر) میں 26 افراد کی ہلاکت پر اظہارِ مذمت کیا، لیکن پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات کی تائید نہیں کی ۔
پس منظر اور جنگ بندی
22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ایک دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جس پر بھارت نے بغیر شواہد کے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا دیا؛ پاکستان نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی۔بھارت نے 7 مئی کو پاک حدود میں فضائی کارروائیاں کیں — جسے بھارت "Operation Sindoor" کا نام دیتا ہے — اور پاکستان نے بھی بھرپور جواب دیا، جس کے نتیجے میں فضائی جھڑپوں اور ایک مختصر جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوئی ۔دونوں ممالک کی دعوے بازی میں بھارت نے پاک فضائیہ کے طیاروں کے تباہ ہونے کا دعویٰ کیا جبکہ پاکستان نے بھارتی طیاروں کے تباہ ہونے کا اعلان کیا، لیکن کسی نے حتمی ثبوت پیش نہیں کیا۔10 مئی کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے دونوں رہنماؤں سے بات چیت کے بعد جنگ بندی کروائی، اور دھمکی دی کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو امریکا تجارتی رشتہ ختم کر دے گا؛ بھارت نے امریکا کا کردار مسترد کیا، جبکہ پاکستان نے ٹرمپ کے ثالثی کردار کو تسلیم کیا ۔
ثالثی اور امن انعام
ٹرمپ نے کشمیر تنازع پر ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے قبول کر لیا ، دفتر خارجہ نے ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی ۔دوسری جانب، بھارت نے ثالثی کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا ۔پاکستان نے ٹرمپ کو 2026 کا نوبل امن انعام دینے کی سفارش کی، جس پر نائب وزیراعظم اسحق ڈار کے دستخط شامل تھے۔
نتیجہ:
ٹرمپ کی بیان کے مطابق کشیدگی شدید تھی اور جنگ واقعی قریب آئی، جس میں ممکنہ طور پر 4–5 لڑاکا طیارے مار گرائے گئے۔ امریکا نے جنگ بندی کروانے میں اپنا کردار موثر قرار دیا، جبکہ پاکستان نے اسے قبول کیا اور بھارت نے سرکاری طور پر ان دعووں کی تردید کی ہے۔