لاہور حادثات، چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سے 4 گوجرانوالہ 2افراد، چنیوٹ 4افراد،رینالہ خور دمیں خاتون دم توڑ گئی
جہلم میں، کانسٹیبل حیدر سیلاب زدگان کو بچاتے ریلے میں بہہ گیا،منڈی بہائوالدین ڈسٹرکٹ جیل بھی زیر آب،قیدی حافظ آباد منتقل
لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب میں بارشوں سے تباہی جاری ،چھتیں گرنے ،کرنٹ لگنے سمیت دیگر واقعات میں مزید 12افراد جاں بحق ہوگئے ، جہلم میں سیلاب زدگان کو بچاتے کانسٹیبل شہیدہو گیا۔گوجرانوالہ میں بچے سمیت 2افراد، چنیوٹ 4افراد،رینالہ خور دمیں ایک خاتون جاں بحق ہوئی لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کے باعث چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سے 4 افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہو گئے۔ شاہدرہ کے علاقے لطیف چوک کشمیر پارک میں بارش کے دوران بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے سے 17 سالہ منیب عامر جھلس کر جاں بحق ہو گیا۔ نولکھا میں ریلوے کوارٹرز کے قریب گھر کی چھت گرنے سے 50 سالہ الطاف اور 4 سالہ نورالفضا جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ مراکہ گاؤں ملتان روڈ پر بوسیدہ چھت گرنے سے 35 سالہ ناہید صدیق جاں بحق اور تین افراد ریحان، فریحہ اور فروا زخمی ہو گئے۔ رنگ روڈ کرول گھاٹی کے قریب فیکٹری کی چھت گرنے سے مزدور بابر زخمی ہوا۔ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا۔ محکمہ موسمیا ت نے پنجاب میں مون سون بارشوں کا چوتھا طوفانی سلسلہ 20جولائی سے شروع ہونے کی پیش گوئی کردی ہے،پوٹھوہار ریجن میں طوفانی بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال برقرارہے جبکہ بارشوں کے بعد ریسکیو آپریشن بھی جاری ،منڈی بہائوالدین میں پھنسے خاندان کو بچا لیا گیا ،منڈی بہائوالدین کی ڈسٹرکٹ جیل میں پانی بھر گیا ،قیدی حافظ آباد جیل منتقل کر دیئے گئے،سرگودھا میں 40 دیہات سے خاندانوں کی منتقلی ،جہلم میں پھنسے 500 افراد کو بھی نکال لیا گیا ،جناح بیراج پر درمیانے ، چشمہ پر نچلے درجے کا سیلاب ، راولپنڈی میں تین افراد کی لاشیں مل گئیں ،راولپنڈی میں 4 افراد کل ریلے میں بہہ گئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق جہلم میں ریسکیو آپریشن کے دورا ن سیلاب زدگان کو بچاتے ہوئے ہاتھ سے رسی چھوٹ جانے پر کانسٹیبل حیدر علی ریلے میں بہہ گیا، لاش مل گئی ، شہید اہلکار کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کر دی گئی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید کانسٹیبل حیدر علی کو خراج عقیدت پیش کرتے کہا ہے کہ شہیدحیدر علی نے بہادری کی مثال قائم کی۔علاوہ ازیں گوجرانوالہ کے نواحی علاقہ لدھیوالہ وڑائچ کی الیاس کالونی میں گھر کی بوسیدہ چھت گرنے سے کمرے میں پانچ بچوں کے ساتھ سوئی 55 سالہ کاخاتون فاطمہ بی بی جاں بحق ہو گئی جبکہ اس کا 15 سالہ بیٹا مدثر شدید زخمی ہو گیا۔ ریسکیو 1122 اور لدھیوالہ پولیس نے ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے لاش، زخمی لڑکے سمیت دیگر پانچوں بچوں کو ملبے تلے سے نکال لیا، زخمی مدثر کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔علاوہ ازیں گوجرانوالہ کے تھانہ سبزی منڈی کے علاقہ میں واقعہ ہاوسنگ سوسائٹی کے حالی پلاٹوں میں کھڑے بارشی پانی میں ڈوب کرکہ شہباز کالونی کا رہائشی 7 سالہ بچہ امیر حمزہ جاں بحق ہو گیا ،بچے کی موت کا سن کر والدین پر غشی کے دورے پڑتے رہے ۔ چنیوٹ میں بارش نے تباہی مچادی،کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے، چھتیں گرنے سے 2 خواتین سمیت 3 افراد جاں بحق ہو گئے،پہلے واقعہ میں امین پور روڈ چک نمبر 140میں بر آمدے کی چھت گرنے سے ملبے ملبے تلے دب کر 45سالہ بانو بی بی اور 27سالہ شمیم بی بی جاں بحق ہو گئیں جبکہ پٹھان کوٹ موضع میں کمرے کی چھت گر نے سے 45سالہ ظفر عباس موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ علاوہ ازیں چناب نگر میں گھر کی چھت سے گزرنے والے ننگے تار سے کرنٹ لگنے پر نوید نامی شخص دم توڑ گیا جبکہ مختلف واقعات میں 20افراد زخمی ہو گئے۔اوکاڑہ کے چک نمبر 26 ون اے ایل میں واقع گھر کے کمرے کی بوسیدہ چھت گرنے سے 25 سالہ خاتون رانی بی بی جاں بحق ہو گئی جبکہ اس کا 30 سالہ خاوند مظہراقبال،7 سالہ بیٹی علیزہ،5 سالہ بیٹی فضاء ،ایک سالہ بیٹا اظہر اقبال شدید زخمی ہو گئے ،لاش اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دوسری طرف پی ڈی ایم اے نے بارشوں اور سیلاب سے نقصانات پر رپورٹ جاری کر تے بتایا کہ چکوال، جہلم اور راولپنڈی میں غیر معمولی بارش کے باعث رین ایمرجنسی نافذ کی گئی،حالیہ بارشوں کے دوران پوٹھوہار ریجن میں تقریبا 1000 سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پرپہنچایا گیا ،بارشوں کا چوتھا سلسلہ 21 جولائی سے شروع ہو نے کا امکان ہے۔ ریسکیو آپریشنز میں ضلعی انتظامیہ اور فوجی جوانوں نے حصہ لیا ،پوٹھوہار ریجن میں بارشوں کے سیلابی پانی میں پھنسے تقریبا 1000 سے زائد شہریوں کومحفوظ مقامات پرپہنچایا گیا ، جہلم میں 398 شہریوں کو ریسکیو کیا گیا، 174 افراد کو ضلعی انتظامیہ اور 64 شہریوں کو فوجی جوانوں نے ریسکیو کیا جبکہ 160 شہریوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ چکوال میں کلاڈ برسٹ کے باعث سیلابی پانی میں پھنسے 209 شہریوں کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیا جن میں سے27 شہریوں کو ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کیا گیا، راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ نے 450 افراد کو ریسکیو کیا۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)کے مطابق مون سون بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کے باعث دریائوں میں پانی کے بہا ئومیں اضافہ ہونے لگا ہے ، دریائے سندھ میں تربیلا اور چشمہ کے مقام پر نچلے ، کالا باغ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ، جبکہ دریائے راوی، چناب، جہلم اور ستلج میں پانی کا بہا نارمل سطح پر ہے ، منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 47 فیصد اور تربیلا میں 79 فیصد ہے جبکہ ستلج ، بیاس اور راوی پر قائم بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح 36 فیصد ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہری ہنگامی صورتحال میں ہیلپ ائن 1129 پر کال کریں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آزاد کشمیر، مشرقی پنجاب، خطہ پوٹھوہار اور بالائی خیبر پختونخوا میں چند مقامات جبکہ جنوبی بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے بیشتر مقامات پر بارش کا امکان ہے، جنوب مشرقی سندھ میں بھی چند مقامات پر بارش کی توقع ہے۔ لاہور میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا امکان ہے ،گزشتہ روز بھی بعض مقامات پر بارش ہوئی۔ ادھر پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں مون سون سیزن کے دوران بارشوں، سیلابی ریلوں، دیوار اور آسمانی بجلی گرنے سے 16افراد جاں بحق اور 8زخمی ہوگئے،بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث11 مکانات مکمل تباہ اور 55کو جزوی نقصان پہنچا ہے، مون سون کے دوران مختلف اضلاع میں سولر پینلز اور فصلیں بھی متاثر ہوئیں۔دوسری جانب بارشوں سے دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو تا جا رہا ہے جس سے نشیبی علا قوں میں پانی داخل ہو چکا ،آخری اطلاعات تک بیس کے قریب دیہاتوں کا شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہو نے کی اطلاعات ہیں۔ ادھر شورکوٹ میں ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کیلئے پیشگی تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں۔دوسری طرف خیبر پختونخواہ بیشتر اضلاع میں طوفانی بارشوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے سمیت دیگر واقعات میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 11 مویشی بھی ہلاک ہو گئے سوات کی تحصیل کبل کے علاقے کانجو(شام بابا قونج )میں واقع ایک گھر کے باورچی خانہ کی چھت گرنے سے 32 سالہ بشری بی بی زوجہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ24گھنٹوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ علاوہ ازیں دریاوں اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے لگا،بارشوں کے باعث تربیلا کے مقام پردریائے سندھ میں پانی کی آمد2 لاکھ 70 ہزار 800 کیوسک تک پہنچ گئی جبکہ اخراج 2 لاکھ 70ہزار 400 کیوسک ہے،منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 44 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 8 ہزار 400 کیوسک ، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد2 لاکھ 49 ہزار 200 کیوسک اوراخراج 2 لاکھ30 ہزار 800 کیوسک ، ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 56 ہزارکیوسک اور اخراج 32 ہزار 100کیوسک ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 37ہزار 600 کیوسک اور اخراج 37 ہزار 600 کیوسک ہے، تربیلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1530.00 فٹ اور پانی کا ذخیرہ46 لاکھ 3 ہزار ایکڑ فٹ ہے،منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1188.00 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 35لاکھ 39 ہزار ایکڑ فٹ ہے،چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 647.80 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 49 ہزار ایکڑ فٹ ہے ۔ادھر دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث سیلابی پانی سیہون کے کچے کے علاقوں تک پہنچ گیا ،30 سے زائد دیہات کا سیہون اور بھان سیدآباد شہروں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ دریں اثناء ننکانہ صاحب اور گردونواح میں مسلسل بارشوں سے دریائے راوی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ، جب کہ بارشی ریلے پرانا فرید آباد کو جانے والے دونوں راستے بہا لے گئے۔کنڈ رحم شاہ اور کنڈ قاسم شاہ کے راستے بھی بند ہو چکے ہیں، جس کے باعث تینوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور مقامی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔ڈیک نالہ اور سیم نالے بھی بپھر چکے ہیں، جبکہ نہروں میں کئی فٹ چوڑے شگاف پڑ گئے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بعض بند باندھنے کی کوشش کی لیکن پانی کا تیز بہائو ان بندوں کو بھی بہا کر لے گیا پانی قریبی بستیوں اور کھیتوں میں داخل ہو چکا ہے۔ سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئی اور کسان شدید مالی پریشانی میں مبتلا ہیں۔