بھارت نے ستلج میں مزید پانی چھوڑدیا، انتہائی اونچے سیلاب کا خدشہ،گنڈا سنگھ والا، تریموں، پنجند اور بلوکی، راوی، سائفن، شاہدرہ، سدھنائی اور سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ ،
پنجاب میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری، جلال پور پیروالا میں فوج طلب، صورتحال خراب،ریسکیو آپریشن میں پاک فوج کی 14 کشتیاں حصہ لے رہی ہیں، سی پی او ملتان
اب تک 41 لاکھ افراد متاثر، اموات کی تعداد 56 ہوگئی، 20 لاکھ 73 ہزار شہریوں، 15 لاکھ 22 ہزار مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ، سربراہ پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا
لاہور /ملتان ،کراچی/سکھر (مانیٹرنگ ڈیسک ) صوبہ پنجاب میں تباہی مچانے والا بپھرا ہوا سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہوگیا، گنڈا سنگھ والا، تریموں، پنجند اور بلوکی، راوی، سائفن، شاہدرہ، سدھنائی اور سلیمانکی پر
اونچے درجے کا سیلاب ہے، پراونشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کی جانب سے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ تریموں بیراج پر گذشتہ 12 گھنٹوں میں 1 لاکھ 12 ہزار 576 کیوسک کا شدید اضافہ ہوا جہاں پانی کی آمد اور اخراج 4 لاکھ 88 ہزار 169 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، پاکستان میں مزید سیلابی صورت حال کا خدشہ پیدا ہوگیا جب کہ بھارتی ہائی کمیشن نے دریائے ستلج میں 2 مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے پاکستان کو آگاہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد ہریکے اور فیروز پور کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، وزارت ا?بی وسائل نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی الرٹ جاری کر دیا۔پنجاب میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری، جلال پور پیروالا میں فوج طلب، صورتحال خراب،ریسکیو آپریشن میں پاک فوج کی 14 کشتیاں حصہ لے رہی ہیں، سی پی او ملتان،، وزارت ا?بی وسائل کے مراسلے میں کہا گیا کہ بھارتی ہائی کمیشن نے دریائے ستلج میں 2 مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کیا، دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور کے مقام انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے لہٰذا تمام محکمے الرٹ رہیں اور متعلقہ آبادیوں سے عوام کی منتقلی سمیت دیگر ضروری انتظامات کرلیں۔ پنجند بیراج پر پانی کی آمد اخراج 3 لاکھ 45 ہزار کیوسک رہا، گڈو بیراج پر آمد 3 لاکھ 66 ہزار 151 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 28 ہزار 487 کیوسک تھا۔سینئر صوبائی وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سکھر بیراج پر آمد 3 لاکھ 29 ہزار 990 کیوسک، اخراج 2 لاکھ 81 ہزار 985 کیوسک رہا جب کہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 452 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 26 ہزار 497 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، گڈو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ ہوا، سکھر اور کوٹری پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، صوبے کی 15 اضلاع کی 166 یوسیز سے 1 لاکھ 28 ہزار 57 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے، عوام حکومت کے ساتھ تعاون کریں، افواہوں پر کان نہ دھریں، سندھ حکومت سیلاب سے متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر تمام ضلعی انتظامیہ فیلڈ میں موجود ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 6 ہزار 288 افراد کومحفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 5 ہزار 772 افراد کا علاج کیا گیا ہے، مویشیوں کی منتقلی اور حفاظت کے لئے بھی انتظامات کیے ہیں اور 24 گھنٹوں میں 9 ہزار 984 مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔