تحریک انصاف کے کورنگ امیدواروں کادستبردار ہونے ہونے سے ا نکار،سیاسی کمیٹی نے اپوزیشن کیساتھ معاہدے کی مخالفت کردی

سینیٹ الیکشن، پختونخوا میں تحریک انصاف کو جھٹکا؟ 
 مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا خان آفریدی اور پیر نورالحق قادری ، روبینہ ناز اعظم سوا تی مشعال یوسفزئی امیدوار فائنل ، عرفان سلیم، خرم ذیشان اور عائشہ بانو نے الیکشن لڑا تو اپوزیشن کو فائدہ ہونے کا امکان ،پی ٹی آئی کا سینیٹ انتخابات بلا مقابلہ کرانے کا حتمی فیصلہ : ذرائع
پشاور(خصوصی رپورٹ)سینیٹ الیکشن، پختونخوا میں تحریک انصاف کو جھٹکا لگنے کا امکان بڑھ گیا، اگر امیدوار دست بردار نہ ہوئے تو سیٹیں کم ہو سکتی ہیں ، پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے خیبرپختونخواہ میں سینیٹ انتخابات میں اپوزیشن کیساتھ معاہدے کی مخالفت کردی، سیاسی کمیٹی کے 13 میں سے 11 اراکین نے معاہدے کی مخالفت کی، پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اہم اجلاس ہواجس میں سیاسی کمیٹی نے عرفان سلیم کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ہرحال میں ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا۔سینیٹ انتخابات کے بلا مقابلہ انتخابات پر پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی اجلاس میں اکثریتی اراکین نے اپوزیشن کے ساتھ معاہدے کی مخالفت کردی۔ سیاسی کمیٹی کے اراکین نے موقف اختیار کیا کہ ہم آسانی کے ساتھ 5 جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ 11 میں سے 7 سینیٹرز کا آسانی کیساتھ ہم انتخاب کر سکتے ہیں۔ سیاسی کمیٹی نے عرفان سلیم کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ہر حال میں ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا۔اجلاس میں بعض اراکین نے جے یو آئی کے ساتھ بات کرنے کی بھی تجویز دی۔ سیاسی کمیٹی کے اراکین نے موقف اختیار کیا کہ جمعیت علماء￿  اسلام کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی 8 اور جے یو آئی دو نشستیں حاصل کر سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق عرفان سلیم، خرم ذیشان اور عائشہ بانو نے دستبردار ہونے سے صاف انکار کردیا۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی کے فیصلے کے تناظر میں سلمان اکرم راجہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے ملاقات کریں گے۔واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کے کورنگ امیدواروں نے دستبردار ہونے سے صاف انکار کردیا تھا۔ ناراض ارکان کو منانے کیلئے مرکزی قیادت بھی سرگرم ہوگئی تھی۔ ناراض رہنماں کو منانے کیلئے 3 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی تھی جس میں بیرسٹر گوہر، عمر ایوب اور اسد قیصر شامل، سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کے کورنگ امیدوار قیادت کے سامنے ڈٹ گئے تھے۔سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف مشکل میں پڑ گئی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے کورننگ امیدواروں کا اجلاس ہوا تھا جس میں جنرل نشست کے امیدوار عرفان سلیم، وقاص اورکزئی اور خرم ذیشان شریک ہوئے تھے۔ اجلاس میں ٹیکنو کریٹ کی نشست پر امیدوار سابق آئی جی سید ارشاد حسین اور خواتین کی نشست کی امیدوار عائشہ بانو بھی شریک ہوئی تھیں۔اجلاس میں تمام امیدواروں نے سینیٹ انتخابات سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ کیاتھا۔رہنما پی ٹی آئی عرفان سلیم کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا ہ اسمبلی کو اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ بننے نہیں دیں گے۔خیبر پختونخواہ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان عمران خان کے نام پر ووٹ لے کر آئے تھے۔عرفان سلیم نے کہا تھا کہ مجھے کابینہ میں شامل کرنے اور آئندہ ٹکٹ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ مجھے عہدہ اور ٹکٹ نہیں چاہیے اب عمران خان کے باہر آنے پر بات ہوگی۔انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ پارٹی قیادت کا حکم سر آنکھوں پر لیکن اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ ہم آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے مشاورت کررہے تھے۔ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات بلا مقابلہ کرانے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ یہ فیصلہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جو 18 جولائی 2025 کو منعقد ہوا۔اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق چیئرمین عمران خان نے سینیٹ انتخابات کے لیے پارٹی امیدواروں کے نام فائنل کر دیے ہیں جن کی سیاسی اور پارلیمانی کمیٹی نے توثیق کر دی ہے۔اعلامیے کے مطابق خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کے بعد یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ خرید و فروخت کے شرمناک عمل کے خاتمے کے لیے بلا مقابلہ الیکشن کو ترجیح دی گئی۔ عمران خان کی ہدایت پر خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کو انتخابی طریقہ کار طے کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جس پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اعتماد کا اظہار کیا۔فائنل کیے گئے امیدواروں میں جنرل نشستوں پر مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا خان آفریدی اور پیر نورالحق قادری شامل ہیں۔ خواتین کی مخصوص نشست کے لیے روبینہ ناز، ٹیکنوکریٹ نشست پر اعظم سواتی اور سابق سینیٹر ثانیہ نشتر کی خالی نشست پر مشعال یوسفزئی کو نامزد کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل سینیٹ الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن کے معاہدے کے خلاف پی ٹی آئی کے ناراض امیدواروں نے دست بردار ہونے سے انکار کردیا تھا اور وزیراعلیٰ کے پی سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکی دی تھی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی کمیٹی نے بلا مقابلہ انتخابات کے فیصلے کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے اور دیگر امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اعلامیہ کے بعد بھی ناراض امیدوار الیکشن سے دستبرداری کا فیصلہ نہ کرسکے، سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ناراض امیدواروں کا مشاورتی اجلاس جاری ہے، ناراض امیدواروں کا کہنا ہے کہ مشاورت کے بعد سیاسی کمیٹی کو فیصلے سے آگاہ کریں گے۔