پی ٹی آئی کا لانگ مارچ حکومت مخالف تحریک میں تبدیل کرنیکا فیصلہ مارچ کئی ہفتوں کی سیاسی سرگرمیوں کے بعد اسلام آباد میں داخل ہوگا:سیاسی کمیٹی

بیرسٹر گوہر کی سربراہی میں اجلاس‘ اسلام آباد جانے سے قبل خیبرپختونخوا میں پڑائو ڈالنے کا فیصلہ،وزیراعلی لانگ مارچ کی قیادت ڈیرہ اسماعیل خان سے کریں  گے
مذاکرات کا آپشن برقرار‘ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا  ، عوام کی مرضی کے خلاف اقدامات سے وفاق کمزور ہوگا:بیرسٹرگوہر
لاہور،پشاور(آئی این پی )پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی منظوری دیدی۔ذرائع پی ٹی آئی کے مطابق چیئرمین بیرسٹرگوہر کی سربراہی میں سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں لانگ مارچ، صوبائی حکومت کے خلاف وفاقی حکومت کے اقدام سمیت اہم امور زیر غور آئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی کمیٹی نے چار اکتوبر کو لانگ مارچ کے آغاز کی منظوری دیدی، وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی جنوبی اضلاع سے مارچ کا آغاز کریں گے۔ذرائع کے مطابق لانگ مارچ حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہوگیا، لانگ مارچ کئی ہفتوں کی سیاسی سرگرمیوں کے بعد اسلام آباد میں داخل ہوگا، لانگ مارچ کے حتمی پڑا وکا فیصلہ بعد میں ہوگا۔پارٹی ذرائع کے مطابق زیراعلی خیبرپختونخوا کی قیادت میں قافلہ پہلے صوبے کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا آگے بڑھے گا۔ جبکہ کارکنوں کے لئے  صوابی یا اٹک پل کے مقام پر ٹینٹ کیمپ لگانے کی تجویز ہے،صوبائی صدر جنید اکبر خان ملاکنڈ سے لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی سینئر قیادت نے بھی وزیراعلی کو لانگ مارچ کے آغاز کا گرین سگنل دے دیا، صوبائی حکومت کیخلاف کسی بھی وفاقی اقدام کا عوامی طاقت سے جواب دیا جائے گا، ایمرجنسی یا گورنر راج کی صورت میں گورنر ہائوس کے باہر دھرنا ہوگا۔ذرائع پی ٹی آئی کے مطابق ممکنہ وفاقی اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے قانونی ٹیم تشکیل دینے کی بھی منظوری دے دی گئی۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اجلاس میں لانگ مارچ کے ساتھ گورنر راج اور ایمرجنسی کی خبروں پر بھی غور کیا گیا، حکومت کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کی مرضی کے خلاف اقدامات سے وفاق کمزور ہوگا، اپوزیشن اپنے تمام تحفظات حکومتی نمائندوں کے سامنے رکھ چکی ہے اور ہم ابھی بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔