الیکٹرک وہیکل کی عام آدمی تک رسائی کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات کا جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے،وفاقی حکومت بشمول وفاقی بورڈ، ملک بھر کے بورڈز کے ٹاپرز کو الیکٹرک موٹرسائیکل فراہم کرے گی
کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 22 سال کی بلند ترین سطح پر، وزیرِاعظم کا اظہارِ تشکر‘ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافے نے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کر دیا ہے:وزیراعظم کی اجلاسوں میں گفتگو
پاکستان افغانستان ازبکستان ریلوے لائن سے تجارت کے نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے، پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے دنیا بھر میں آمدورفت ہوگی‘سول سروس کی تجدید نو حکومت کی اولین ترجیح ہے:وزیراعظم
اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن ) وزیراعظم شہبازشریف نے الیکٹرک وہیکل کی عام آدمی تک رسائی کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات کا جامع لائحہ عمل تشکیل د ینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے حکومت ترجیحی بنیادوں پر روزگار کے لیے ایسے لوگوں کو الیکٹرک رکشے اور لوڈر فراہم کرے گی جو بے روزگار ہیں۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں الیکٹرک وہیکلز کی حوصلہ افزائی، الیکٹرک بائیکس، رکشہ و لوڈر کے حصول میں حکومتی معاونت پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی ہارون اختر، چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت بشمول وفاقی بورڈ، ملک بھر کے بورڈز کے ٹاپرز کو الیکٹرک بائیک فراہم کرے گی۔ الیکٹرک وہیکلز کی حوصلہ افزائی سے ایندھن کی مد میں اربوں ڈالر کے قیمتی زر مبادلہ کی بچت، ماحولیاتی تحفظ میں معاونت اور مقامی صنعت کو فروغ ملے گا۔انہوں نے ہدایت کی کہ الیکٹرک وہیکل کی عام آدمی تک رسائی کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کا جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، ملک میں الیکٹرک وہیکلز کی تیاری اور مینٹنیننس کے لیے ایک مکمل ایکوسسٹم تشکیل دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ الیکٹرک وہیکلز کی تقسیم اور اس میں حکومتی معاونت کے پورے طریقہ کار کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرائی جائے۔ حکومت کی الیکٹرک وہیکل کی حوصلہ افزائی اور اس میں حکومتی معاونت والی اسکیم میں معاشی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ترجیح دی جائے۔انہوں نے ہدایت کی الیکٹرک وہیکل کے حصول میں حکومتی معاونت کی اسکیم کے بارے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے۔دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مالی سال 2024-2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.1 ارب ڈالرز تک پہنچنے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے اظہارِ تشکر کیا ہے۔ اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ کارنامہ گزشتہ 22 سالوں میں سب سے بلند سطح پر کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کی عکاسی کرتا ہے، جو حکومت کی مو ثر اقتصادی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے عملی اقدامات کی بدولت پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر 19 ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت سنگِ میل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں استحکام کی بنیادی وجہ ترسیلات زر اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ روز بروز بہتر ہوتے مالیاتی و معاشی اشاریے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کے راستے پر رواں دواں ہے۔ شہباز شریف نے کہا ہے کہ سول سروس کی جامع اور موثر حکمت عملی کے تحت تجدید نو حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سول سروس کی ریفارمز پر جائزہ اجلاس ہوا، اس دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سول سروس کو مزید فعال کرنے کے لیے اس کی تجدید نو وقت کی اہم ضرورت ہے۔شہباز شریف نے کہا ہے کہ سول سروس حکومت کی عملی کارکردگی اور پالیسی کے موثر عمل درآمد میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، سول سروس ریفارمز میں سرکاری افسروں اور عوامی نمائندگان کی رائے کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔علاوہ ازیںشہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان ازبکستان سہ فریقی ر یلوے لائن تجارت کے نئے دور کا آغاز ہوگا،وسطی ایشیا سے تجارتی سامان کی پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے دنیا بھر میں آمدورفت ہوگی۔وزیر اعظم کی زیر صد ارت پاکستان کے شپنگ سیکٹر اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی اصلاحات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان کے شپنگ سیکٹر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے پلان مرتب کیا جائے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیشنل شپنگ کارپوریشن کو کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔شہباز شریف نے ہدایت دی کہ نیشنل شپنگ کارپوریشن کو کارپوریٹ بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ شعبے میں شفافیت اور استعداد میں اضافہ ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا پاکستان افغانستان ازبکستان ریلوے لائن سے خطے میں تجارت کے نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جس کے تحت وسطی ایشیا سے تجارتی سامان کی پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے دنیا بھر میں آمدورفت ہوگی