سٹاک مارکیٹ میں روز نیا ریکارڈ‘مہنگائی بھی پیچھے نہ رہی‘قیمتوں میں دھڑا دھڑ اضافہ

ہفتہ وار مہنگائی میں 0.38 فیصد اضافہ ‘  22 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں‘مرغی کے گوشت  کے نرخ بھی کنٹرول نہ کئے جا سکے
پٹرول‘ڈیزل‘لہسن‘ پیاز ‘ آلو ‘  دہی، تازہ دودھ، دال مسور، مٹن، خشک دودھ ‘ جلانے کی لکڑی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا:ادارہ شماریات

کراچی‘اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن )پاکستان سٹاک مارکیٹ ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔کاروباری ہفتے کے پانچویں اور آخری روز سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 40 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔ٹریڈنگ کے دوران پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس 1900 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 40 ہزار 585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔دریں اثناء  ملک میں مہنگائی کی موجودہ لہر نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ  ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں مہنگائی کی شرح  میں 0.38 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم، سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی مجموعی شرح میں 1.61 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق 4 سے 11 جولائی کے درمیان 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 9 اشیاء  کی قیمتوں میں کمی اور 20 اشیاء    کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ رپورٹ کے مطابق زندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں 35 روپے تک اضافہ ہوا، جو 460 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔  انڈے فی درجن 15 روپے تک مہنگے ہو گئے۔  پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔  رپور ٹ  کے مطابق      لہسن کی قیمت میں 7 روپے، پیاز میں 1 روپے، اور آلو میں 1.23 روپے کا اضافہ ہوا۔  دہی، تازہ دودھ، دال مسور، مٹن، خشک دودھ اور جلانے کی لکڑی بھی مہنگی ہونے والی اشیاء  میں شامل رہیں۔  رپورٹ کے مطابق  ٹماٹر فی کلو 9 روپے سے زائد سستے ہوئے۔  ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 29 روپے سستا ہوا۔  چینی، آٹا، دال مونگ دھلی ہوئی اور کیلے ان اشیاء   میں شامل ہیں جن کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کی یہ ہفتہ وار رپورٹ روزمرہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا واضح عکس پیش  کرتی ہے، جس کے براہ راست اثرات عام شہری کی زندگی پر پڑ   رہے ہیں