ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔
عدالت نے ملزمان کی عدم گرفتاری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور این سی سی ائی اے حکام کو حکم دیا کہ آج 11 بجے تک ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کریں۔سماعت کے دوران عدالت نے 11 بجے تک وقفہ دیا، تاہم وقفے کے بعد بھی ملزمان کی گرفتاری نہ ہو سکی۔ پولیس اور این سی سی ائی اے حکام نے رپورٹ جمع کروانے کے لیے وقت مانگا، جس پر جج نے واضح کیا کہ غیر تسلی بخش رپورٹ کی صورت میں کارروائی ہوگی اور رپورٹ دو بجے تک جمع کروائی جائے۔
بعد ازاں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ایک روز کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں کل تک گرفتار ہونے سے روکا۔ جسٹس اعظم خان نے سماعت کے دوران کہا کہ ٹرائل کورٹ میں جج ہر 15 منٹ بعد کیس چلا رہے ہیں، اور ایمان مزاری ایک خاتون ہونے کے ناطے ان کی طبیعت بھی مدنظر رکھی گئی۔عدالت کا موقف ہے کہ ججز کی ذمہ داری بہت اہم ہے اور کسی بھی کارروائی میں تحمل اور قانونی تقاضے اولین ترجیح ہونے چاہئیں۔