ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے وارنٹ گرفتاری کو چیلنج کر دیا

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے وارنٹ گرفتاری کو چیلنج کر دیا

اسلام آباد میں ایک قانونی کیس سے متعلق ہے جس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے وارنٹ گرفتاری اور دیگر عدالتی احکامات کو چیلنج کیا ہے۔

ٹرائل کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پولیس اور این سی سی آئی اے کے افسران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کریں۔اس کے ساتھ ہی حق دفاع ختم کرنے کا بھی حکم جاری کیا گیا تھا اور اسٹیٹ کونسل سے 342 کا بیان طلب کیا گیا۔ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ وارنٹ گرفتاری اور حق دفاع ختم کرنے کے احکامات کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔عدالت نے وارنٹ کی تعمیل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا، کیونکہ ملزمان اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے اور جان بوجھ کر گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
عدالت نے ہدایت دی کہ وارنٹ گرفتاری کے لیے کم رینک افسران کو نہ لگایا جائے اور ایس پی اور ڈپٹی ڈائریکٹر وارنٹ کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہوں۔کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ہے، اور ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یہ کیس خاص طور پر ٹوئٹس سے متعلق قانونی کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری کے اردگرد پیشرفت پر مبنی ہے۔