گل پلازہ میں جان نچھاور کرنے والے فائر فائٹر کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں

گل پلازہ میں جان نچھاور کرنے والے فائر فائٹر کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں

گل پلازہ میں جان نچھاور کرنے والے فائر فائٹر فرقان علی کے حوالے سے ہے۔

نمازِ جنازہ اور اہل خانہ کی درخواست:
فرقان علی، جو ایک بچے کے والد تھے، گل پلازہ میں آگ بجھاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ اہل خانہ نے اپیل کی ہے کہ فرقان علی سے کسی قسم کا سرکاری گھر نہ لیا جائے اور ان کی اہلیہ کو سرکاری ملازمت دی جائے۔
سرکاری اعزازات اور خراجِ عقیدت:

صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہدایت کی ہے کہ فرقان علی کو سول ایوارڈ سے نوازا جائے۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مرحوم فائر فائٹر کو خراج عقیدت پیش کیا۔
سانحہ گل پلازہ کی صورتحال:

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ ہفتے کی رات سوا 10 بجے لگی۔آگ 33 گھنٹے بعد مکمل طور پر بجھائی گئی۔سرچ آپریشن کے دوران مزید 8 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہو گئی، جبکہ 22 افراد زخمی ہوئے۔گراؤنڈ فلور پر لگنے والی آگ تیزی سے تیسری منزل تک پھیل گئی اور کئی حصے گرگئے۔
فرقان علی کی قربانی:
فرقان علی نے اپنی جان دے کر لوگوں کی زندگیاں بچائیں، اور ان کی قربانی کو معاشرتی سطح پر اعلیٰ کردار اور بہادری کی مثال کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔