یوں اپنے ہی ملک کے پیچھے پڑے ہو، آئیں اس ملک کو بچائیں، محمود اچکزئی

خدانخواستہ اگر پاکستان کے دشمنوں نے فیصلہ کرلیا تو پھر کیا ہوگا؟ ،آپ ظلم بھی کریں اور ہمیں بولنے اور احتجاج کرنے کا حق بھی نہ دیں، یہ کیسا نظام ہے؟
 جب آپ ہمیں جمہوری راستے بند کرکے دھکلیں گے تو کیا آپ ہمیں انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں؟ کیا پاکستان اس کا متحمل ہو سکتا ہے؟ ، اپوزیشن لیڈر
کراچی(آئی این پی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آج بھی انڈس کے کنارے باجوڑ سے لے کر خیبر تک بدامنی موجود ہے، خدانخواستہ اگر پاکستان کے دشمنوں نے فیصلہ کرلیا تو پھر کیا ہوگا؟ کیوں اپنے ہی ملک کے پیچھے پڑے ہوئے ہو، آئیں اس ملک کو بچائیں۔کراچی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے عمران خان کے ساتھ جو کچھ کیا، عمران خان آخر جیل میں کیوں ہے؟ دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ چاہے کوئی ڈاکو ہو، کوئی سینکڑوں لوگوں کا قاتل ہو، کوئی ٹنوں کے حساب سے منشیات سمگل کرے، کوئی قومی دولت لوٹ لے اور پھر بھی اس پر ملاقات کی پابندی ہو لیکن یہاں ایک ایسا شخص جو کسی قتل یا لوٹ مار میں ملوث نہیں، اس پر ملاقات تک کی پابندی لگا دی جاتی ہے، یہ کیسا انصاف ہے؟۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آٹھ فروری کو وہ دن کوئی جشن کا دن نہیں تھا، وہ ظلم کا دن تھا، آئینِ پاکستان کہتا ہے، قرآن کہتا ہے کہ احتجاج مظلوم کا حق ہے، قرآن مظلوم کے حق کو تسلیم کرتا ہے، آپ ظلم بھی کریں اور ہمیں بولنے اور احتجاج کرنے کا حق بھی نہ دی، یہ کیسا نظام ہے