بانی کی قید پی ٹی آئی و حکومت میں وقت گزاری کا کھیل بنا ہوا ہے: لیاقت بلوچ

بانی کی قید پی ٹی آئی و حکومت میں وقت گزاری کا کھیل بنا ہوا ہے: لیاقت بلوچ

لیاقت بلوچ، جو جماعتِ اسلامی کے نائب امیر ہیں، نے حالیہ بیان میں سیاسی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی، عمران خان، کو جو عدالتوں میں قید ہے، اس کا استعمال تحریکِ انصاف اور موجودہ حکومت کے درمیان وقت گزارنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی قید ایک سیاسی کھیل ہے جس کے ذریعے دونوں فریق ایک دوسرے کو وقت ضائع کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ محمود اچکزئی اور راجہ ناصر جیسے سیاستدانوں کے لیے آزادانہ اور خودمختارانہ سیاسی حکمت عملی اختیار کرنا مشکل ہے کیونکہ موجودہ سیاسی حالات میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شپ پی ٹی آئی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن کے اہم رہنماؤں کو اپنی سیاست اور حکمت عملی بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ حکومتی اور ادارہ جاتی اثر و رسوخ کے باعث ان کی آزادی محدود ہے۔لیاقت بلوچ نے تجویز دی ہے کہ سیاسی بحرانوں کے حل کے لیے ایک سینئر سیاسی رہنماؤں کا جرگہ یا اجلاس تشکیل دیا جائے تاکہ موجودہ مسائل کا پُرامن اور موثر حل تلاش کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو مزید طاقتور بنا رہے ہیں، جس سے جمہوری عمل اور سیاست پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مزید انہوں نے وزیرِ اعظم کے غزہ فورس پر وضاحتیں مانگنے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے عوام کو دھوکا دینے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رویہ عوام کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں جنگی تیاریوں اور پیش قدمی میں مصروف ہیں، جس سے خطے میں جنگ کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور یہ پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے۔مجموعی طور پر، لیاقت بلوچ کا یہ بیان سیاسی، علاقائی اور عالمی سطح پر جاری کشمکش اور بحرانوں کی جانب اشارہ کرتا ہے، اور مطالبہ کرتا ہے کہ سیاستدان اور عسکری قیادت مل بیٹھ کر ملک کے سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔