نائب امیرِ جماعتِ اسلامی لیاقت بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف کی بدترین شرائط نے پاکستان کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے باعث ملک کی اقتصادی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان مضبوط تعلقات کی ضرورت ہے تاکہ جنوبی ایشیا میں استحکام اور ترقی ممکن ہو سکے۔ لیاقت بلوچ نے افغانستان میں ایک بار پھر امریکا، بھارت اور اسرائیل کے اثرات کی موجودگی کو بدقسمتی قرار دیا اور کہا کہ امریکی صدر کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ علاقے میں امن قائم رکھا جا سکے۔لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کا وفد آج وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ملاقات کرے گا، جس دوران قائدین ان کی مجلس مشاورت میں امن کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے اس ملاقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خیبر پختونخوا میں امن کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔نائب امیرِ جماعتِ اسلامی نے ملک کی موجودہ صورتحال میں حکومت سے اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ معیشت کو سنبھالا دیا جا سکے اور علاقے میں امن قائم ہو سکے۔