پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال جاری ہے، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال جاری ہے، ترجمان دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جس پر پاکستان نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان سرزمین کو دہشت گرد عناصر کی محفوظ پناہ گاہ بنانے میں مصروف ہیں، جس سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے۔اس دوران، ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار یورپی یونین کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے چوتھے یورپی یونین انڈو پیسفک فورم میں شرکت کی اور مختلف یورپی عہدیداران سے ملاقاتیں کیں۔ اسحاق ڈار نے ہنگری کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ہنگری میں طلبہ کے لیے وظائف پر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ڈنمارک، سویڈن اور ہالینڈ کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے ماسکو کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے ایس سی او کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں شرکت کی۔ روسی صدر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ایس سی او اجلاس میں افغانستان سے تعلقات، علاقائی استحکام اور اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال ہوا، اور ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

اسرائیلی جارحیت اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے، ترجمان نے بھارت میں لال قلعہ بم دھماکوں میں گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ زیادہ تر گرفتار شدگان کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے بتایا گیا، اور کہا گیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر فورمز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر نوٹس لے۔ترجمان نے بنگلا دیش میں حسینہ واجد کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا پر ردعمل دیا اور کہا کہ یہ بنگلا دیش کا داخلی معاملہ ہے، اور وہاں کا آئین و قانون اس کا فیصلہ کرے گا۔افغانستان سے تعلقات کے حوالے سے، ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے سرحد بند رکھی ہے اور تجارتی روابط محدود ہیں، کیونکہ افغان طالبان دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہو رہی ہے، اور افغان شہری پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہیں۔

ترجمان نے ترک صدر کے ثالثی وفد کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان اس بیان کو خوش آئند سمجھتا ہے۔ بہت سے ممالک نے افغان ثالثی کی کوششوں پر بات کی ہے۔اس کے علاوہ، ترجمان نے امریکی صدر کے بھارتی وزیراعظم کے حوالے سے بیان کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک تحقیقی، اوپن سورس رپورٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے افغانستان میں سفارت خانہ فعال ہے اور دونوں ممالک کے سفارتکار رابطے میں ہیں۔آخر میں، ترجمان نے غزہ پر پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان نے امریکی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ چین نے اس پر اپنی مخالفت ظاہر کی۔ پاکستان اور چین کے مؤقف میں بعض نکات پر مماثلت پائی جاتی ہے۔