مری میں عمارتیں ہٹانے کا فیصلہ، 14 نئی سیاحتی اسکیموں کی منظوری

مری میں عمارتیں ہٹانے کا فیصلہ، 14 نئی سیاحتی اسکیموں کی منظوری

پاکستان کے مشہور اور مصروف سیاحتی مقام مری سے کئی عمارتیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق، مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا، جس میں مری کی تعمیر اور ترقی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے مری ڈیولپمنٹ پلان پر بریفنگ دی۔اس اجلاس میں کوٹلی ستیاں کو پنجاب کا نیا اور جدید ترین ٹورازم ہب بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جہاں نئی چیئر لفٹ پراجیکٹ سمیت 14 ٹورازم اسکیموں کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مری گلاس ٹرین پراجیکٹ کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے مظفر آباد تک توسیع دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔مری کی تاریخی عمارتوں کو قدیم ڈیزائن کے مطابق بحال کرنے کے لیے شعبہ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

 اسی طرح، ایک ہی مخصوص جگہ پر معیاری ہوٹلز بنانے اور پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مری ہوٹل کمپلیکس کی تعمیر کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔مزید برآں، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مری میں سہ منزلہ عمارتیں ہٹا کر ان کی جگہ پارک اور گرین ایریاز بنائے جائیں گے۔ اپر جھیکا گلی میں سہ منزلہ بلڈنگز کو ہٹا کر سڑک کی توسیع کی جائے گی۔ مری اور کشمیر روڈ کو اسٹیٹ آف دی آرٹ سڑک بنایا جائے گا۔ یہ تمام اقدامات سیاحتی مقام کی خوبصورتی اور سہولیات میں بہتری کے لیے کیے جا رہے ہیں۔