راولپنڈی(آئی این پی)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ماہ مبارک رمضان 1447 ھ کے آغاز پر کہا ہے کہ قمری سال کا نواں مہینہ جس میں طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک چند امور سے قربت خداوندی کی نیت پرہیز کیا جاتا ہے اور روزے جیسی اہم ترین عبادت انجام دی جاتی ہے یہ فقط دین اسلام میں ہی واجب نہیں بلکہ تمام ادیان و مذاہب اس کی افادیت کے قائل ہیں اور ان میں کسی نہ کسی شکل میں روزہ رکھا جاتا ہے ‘ قرآن مجید میں روزے کے وجوب اور شرعی احکامات کو صراحت سے بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ’’اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ تم سے پہلے والوں پر تاکہ تم تقوی اختیار کرو‘‘ اور اسی طرح کہ ’’گنتی کے چند دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی پوری کرلے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں پھر جو شخص نیکی میں سبقت حاصل کرے وہ اس کے لئے بہترین ہے ‘ تمہارے حق میں بہترین کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم یہ جان سکو‘‘علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا ہے کہ قرآن کریم میں اس ماہ مبارک کی فضلیت اور خصوصیت بیان کرتے ہوئے ارشاد خداوندی ہے کہ ’’ماہ مبارک رمضان وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے ‘‘ پیغمبر اکرم ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ انما سمی رمضان لان رمضان یرمض الذنوب ’’رمضان کو رمضان اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ گناہوں کو جلا دیتا ہے اسی طرح دختر پیغمبر اکرم حضرت فاطمہ زہرا ؑ نے فرمایا ’’فرض اللہ الصیام تثبیتا للاخلاص خداوند تعالی نے روزے کو اس لئے واجب کیا ہے تاکہ لوگوں کے اخلاص کو محکم کرے‘‘انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں امت مسلمہ کو جس سنگین صورت حال کا سامنا ہے اس کی اصلاح کا راستہ ماہ مبارک میں مسلسل عمل اور تطہیر نفس سے نکالا جا سکتا ہے ۔