تجربے کی بنیاد پر بتا رہا ہوں درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری سے زائد تھا: ہمایوں خان
کراچی(آئی این پی ) چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اگر پلازہ کی بجلی بند نہ ہوتی اور اعلان ہوتا تو انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے قائم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہوا جس میں ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا اس رات کیا ہوا کچھ بتائیں گے، جس پر ڈی جی ریسکیو نے بتایا ہمیں رات 10 بج کر 35 منٹ پر گل پلازہ میں آگ کی اطلاع ملی، 10 بج کر52 منٹ پر فائر بریگیڈ پہنچ گئی تھی۔جوڈیشل کمیشن نے پوچھا گل پلازہ میں آپ نے کیسے آگ بجھائی، جس پر واجد صبغت اللہ کا کہنا تھا ہم نے سیڑھی کے ذریعے آگ بجھانا شروع کی جس کی ویڈیو موجود ہے، اس کے بعد کے ایم سی کی فائربریگیڈگاڑیاں اوراسنارکل پہنچے۔گرائونڈ فلور سے میزنائن اور فرسٹ فلور والے سمجھ رہے تھے کہ آگ بجھ جائے گی تو نکل جائیں گے جبکہ دکان دار سامان نکال رہے تھے: ڈی جی ریسکیوڈی جی ریسکیو 1122 کا کہنا تھا کیالیکٹرک کو بھی بجلی منقطع کرنے کا کہا تھا، جس پر کمیشن نے پوچھا کیا آپ بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شریک تھے؟ انہوں نے بتایا کہ بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شامل نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا جس وقت پہنچے گرائونڈ پر آگ لگی ہوئی تھی، دوسری اور تیسری منزل والوں کو بچانے کی کوشش شروع کی، گرائونڈ سے اندر جانے کا راستہ نہیں تھا، میز نائن فلور سے بھی داخلی راستہ نہیں