آگ گرائونڈ فلور کی دکان میں لگی ، مالک نے 11 سال کے بیٹے کو دکان پر چھوڑا ہوا تھا، لڑکے نے ماچس جلائی ، جو مصنوعی پھولوں پر گرگئی
پہلا واٹر بازر رات گیارہ بجکر 53 منٹ پر پہنچا، تمام ہائی رسک عمارتوں کا فوری آڈٹ اور خلاف ورزی پر جرمانے کئے جائیں:کمیٹی کی سفارشات
کراچی (آئی این پی ) کراچی میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے دوران پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی جبکہ فائر فائٹرز کے پاس آلات بھی نہیں تھے ، پہلا واٹر بازر رات گیارہ بجکر 53 منٹ پر پہنچا، فائر فائٹرز کے پاس حفاظتی سامان اور مطلوبہ تربیت و مہارت موجود نہیں تھی ۔یہ انکشاف سانحہ گل پلازہ پر حکومت کی قائم کمیٹی کی رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں آگ گرائونڈ فلور کی دکان نمبر 193 میں لگی ، دکان مالک نے 11 سال کے بیٹے کو دکان پر چھوڑا ہوا تھا، لڑکے نے ماچس جلائی ، جو مصنوعی پھولوں پر گرگئی اور آگ بھڑکی ، آتش گیر مواد کی موجودگی کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔رپورٹ کے مطابق غیر محفوظ برقی وائرنگ، ایئر کنڈیشنرز اور کھلے پائپوں نے صورتِ حال کو سنگین بنادیا، فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں نمایاں تاخیر ہوئی، پہلا واٹر بازر رات گیارہ بجکر 53 منٹ پر پہنچا، پانی کی مسلسل فراہمی رات 12 بجے کے بعد شروع ہوئی۔رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ تمام ہائی رسک عمارتوں کا فوری آڈٹ کروایا جائے ، خلاف ورزی پر جرمانے، جزوی بندش یا سیل کرنے کی کارروائی کی جائے۔