تحریک عدم اعتماد لانا‘کامیاب کرانا بھی جانتا ہوں آصف زرداری
میں نے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہیں دی تھی، مجھے بہت لوگوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبر اور تحمل سے کام لیا، پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، ہم نے ان کو ختم کر کے پارٹی کو مضبوط بنانا ہے
بھٹو پاکستان کو ایٹمی طاقت نہ بناتے تو آج ہماری نیپال سے بھی بری حالت ہوتی، سندھ میں سوا چار ہزار نہروں کو پختہ کیا جا چکا ، 15 برسوں میں پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کئی پل بنا چکے :لاہور میں پارٹی رہنمائوں سے گفتگو
لاہور(آئی این پی )صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، یہ مت بھولیں، عدم اعتماد لانا اور پھر کامیاب کرانا بھی جانتا ہوں۔صدر مملکت کی پیپلزپارٹی پنجاب کے رہنمائوں سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ۔دوران گفتگو انہوں نے کہا ہمیں وزارتوں اور اختیارات کی بجائے خدمت کی سیاست کرنا ہوگی، پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے، پاکستان ہے تو ہم ہیں، میں نے صدر بن کر پاکستان کی سپورٹ کی، پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا، وزارتیں اس لئے ہم نے نہیں لیں کہ ہم پارٹی کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان کا کہنا تھا میں نے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبر اور تحمل سے کام لیا، پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، ہم نے ان کو ختم کر کے پارٹی کو مضبوط بنانا ہے۔صدر مملکت نے کہا گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے پنجاب میں پارٹی کی مضبوطی کے لئے بہت کام کیا، گورنر ہائوس کو آپ سب کے لئے کھول دیا، ہر وقت آپ کے لئے دستیاب رہتے ہیں، میں اپنے کاموں کی وجہ سے نواب شاہ سے جیتا ہوں، سب کو عوامی خدمت پر فوکس کرنا ہوگا پھر مضبوط ہوں گے، عوام کے بغیر آپ کسی کام کے نہیں، عوام سے تعلق جوڑے رکھنا ہے۔آصف زرداری کا کہنا تھا بھٹو پاکستان کو ایٹمی طاقت نہ بناتے تو آج ہماری نیپال سے بھی بری حالت ہوتی، اب تک سندھ میں سوا چار ہزار نہروں کو پختہ کیا جا چکا ہے، پندرہ برسوں میں پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کئی پل بنا چکے ہیں۔