ڈی ایس پی کے خلاف خلاف قتل کا مقدمہ درج نہ ہوسکا

پولیس نے مدعی پارٹی کی اندراج مقدمہ درخواست بھی وصول نہیں کی 
لاہور(کرائم رپورٹر)ڈی ایس پی کے ہاتھوں اہلیہ اور بیٹی کے قتل کا معاملہ پولیس افسران کیلئے نئی مشکل بن گیا ہیذرائع کے مطابق اہلیہ اور بیٹی کے قتل کے معاملے میں پولیس تاحال ڈی ایس پی عثمان حیدر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج نہیں کرسکی۔ پولیس کے اعلیٰ افسران ڈی ایس پی کے خلاف 302 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے میں شش وْپنج کا شکارہیں4روز گزرنے کے باوجود پولیس اور پراسیکیوشن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ گزشتہ روز پولیس مدعی خاتون کو لے کر پراسیکیوٹر جنرل کے پاس بھی پیش ہوئی تاہم پراسیکیوشن کے 2 سرکاری وکلا بھی تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچے سکے ہیں۔پولیس نے فی الحال مدعی پارٹی کی اندراج مقدمہ درخواست بھی وصول نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ مقتولین کی شناخت لواحقین کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ہوئی تھی اور پولیس کے پاس صرف ڈی ایس پی کا اعتراف جرم کا بیان ہے۔ مقتولین کے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی تھی جب کہ پولیس نے تاحال لواحقین کو لاشیں بھی وصول نہیں کروائی ہیں۔مدعیہ کا الزام ہے کہ پولیس 3 روز سے اعلیٰ افسران کے دفاتر کے چکر لگوا رہی ہے اورہمیں کچھ نہیں بتایا جارہاہے کہ پولیس نے عثمان حیدر کے ساتھ کیا کرنا ہے۔