جعلی مینڈیٹ والی حکومت آئین میں ترامیم کا حق نہیں رکھتی :مولانا فضل الرحمان

ستائیسویں ترمیم میں جبراً دو تہائی اکثریت بنائی گئی‘ حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی تحریک چلانے کا فیصلہ مشاورت سے کریں گے
 فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، ہم نے دلائل کے ساتھ مخالفت کی ، اس کے نقصانات سے آگاہ بھی کیا، لیکن اسٹیبلشمنٹ خود کو عقلِ کل سمجھتی رہی
اسلام آباد (آن لائن)امیر جے یوآئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے  مسلم لیگ( ن) کی حکومت کے پاس جعلی مینڈیٹ ہے وہ آئین میں کسی بھی قسم ترامیم کا حق نہیں رکھتی ہے ‘ حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی تحریک چلانے کا فیصلہ مشاورت سے کریں گے۔چکوال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ  اتنی تیزی کے ساتھ آئین میں ترامیم کا جو رجحان ہے، وہ آئین کی اہمیت کو مجروح کر رہا ہے حالانکہ آئین ایک میثاقِ ملی ہے انہوں نے کہا کہ چھبیسویں ترمیم میں کم از کم ایک ماہ اور ایک ہفتے تک مشاورت ہوتی رہی بات چیت چلتی رہی اور مفاہمت کے ساتھ اسے اسمبلی میں پیش کیا گیا لیکن ستائیسویں ترمیم میں جبراً دو تہائی اکثریت بنائی گئی اور اسی طاقت کے زور پر اسے پاس کروایا گیا، جس کے نتیجے میں یہ آئین متنازع بن جائے گا، کیونکہ عوام اسے تسلیم نہیں کریں گے‘ غیر اسلامی قانون سازی ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں ہے  اسی لیے ہم نے بائیس دسمبر کو کراچی میں تمام دینی جماعتوں، مختلف مکاتبِ فکر اور مدارس کی ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے، جس میں اس حوالے سے ایک حتمی اور متفقہ رائے قائم کی جائے گی  ‘انہوں نے کہا 27 ویں ترمیم کے بعد کچھ لوگ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں