27ویں ترمیم یکطرفہ ہوئی ، آئین متنازعہ بنانے سے گریزکرنا چاہیے مولانا فضل الرحمان

 سیاسی رائے جوبھی ہومگرایک دوسرے کوعزت دینا روایات کا حصہ ہے، جس کو بچانے کی بڑی جدوجہد کررہے ہیں، مولوی کہلانا ہی پسند کروں گا
ہمیں اپنی افغان پالیسی پربھی غورکرنا چاہیے،  دفاعی اداروں کے حوالے سے ہماری پوزیشن مضبوط ہوئی ہے، ہم اس تسلسل کودیکھنا چاہتے ہیں
کراچی(آئی این پی)سربراہ جے یو آئی( ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے دنیا جانتی ہے27ویں ترمیم یکطرفہ ہوئی ہے،ہمیں آئین کومتنازع بنانے سے گریزکرنا چاہیے۔شہرِقائد میں کامران ٹیسوری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ گورنرسندھ کا دعوت دینے پر شکر گزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی رائے جوبھی ہومگرایک دوسرے کوعزت دینا روایات کا حصہ ہے، جس کو بچانے کی آج ہم بڑی جدوجہد کررہے ہیں، میں مولوی کہلانا ہی پسند کروں گا۔سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ ہمیں 70سال کی افغان پالیسی کوڈسکس کرنا چاہیے، ہمیں اپنی افغان پالیسی پربھی غورکرنا چاہیے، ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہیں ہماری اپنی توناکامی نہیں، آئین کہتا ہے قانون سازی قرآن وسنت کے مطابق ہوگی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اٹھارہ سال سے کم عمرشادی، گھریلوتشدد کے حوالے سے اسلام کے منافی قانون سازی ہوئی، دینی مدارس بھی ایک ادارہ ہے،ہم سب چیزوں میں پیچھے جا رہے ہیں، اگر ٹاپ رینکنگ میں ہے تودینی مدارس کے حوالے سے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی اداروں کے حوالے سے ہماری پوزیشن مضبوط ہوئی ہے، ہم اس تسلسل کودیکھنا چاہتے ہیں، ہمیں پارلیمنٹ کی سپرمیسی کی طرف جانا چاہیے، عوام کے ووٹ کے حق کوتسلیم کرنا چاہیے۔سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ ملک میں یکساں نصاب سے متعلق بات ہو سکتی ہے،پیس کیپنگ فورس کے حوالے سے پاکستان قعطی یہ غلطی نہ کرے، ہمیں عالمی سطح پرمتنازعہ نہیں بننا چاہیے۔