فضل الرحمن کو ریاست میں نوکری نہیں ملے گی محسن نقوی سیاحت اور مذہب کوکمائی کاذریعہ بنایا ہوا ہے:خواجہ آصف
ریاست پر تھوکنے کی بات پر مولانا فضل الرحمن کے احترام کی کوئی گنجائش نہیں رہی‘ مال ملتا رہے تو ٹھیک ورنہ غلط ،یہ دین کو سیاست، کاروبار،ہر چیز میں فائدے کیلئے استعمال کرتے ہیں:وزیرداخلہ
کج ٹکر اینہاں نوں وی پا دیندے تے ایہہ گل نہیں ہونی سی‘‘مجھے طعنہ دیتے ہیں تو آپ بھی تو کچھ شرم کریں ، حیا کریں، آپ کون سا آبِ زم زم سے دھلے ہیں ‘مذہب کے نام پر کمائیاں کی ہوئی ہیں :وزیردفاع
اسلام آباد (آئی این پی )وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے مولانا فضل الرحمان کے بیانات کے بعد اب احترام کی گنجائش باقی نہیں رہی ، مال ملتا رہے تو ٹھیک ورنہ غلط ،یہ لوگ گورنر راج سے پہلے ہمیں کہتے تھے گورنر راج لگائیں اور ہماری پی ٹی آئی سے جان چھڑائیں، جے یو آئی نے لائن کراس کر لی اب ان کو جواب ملے گا۔ سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا ریاست پر تھوکنے کی بات پر مولانا فضل الرحمان کے احترام کی کوئی گنجائش نہیں رہی، جے یو آئی نے لائن کراس کر لی اب ان کو جواب ملے گا، ان کیلئے ریاست تب ماں ہوتی جب یہ فائدہ لیں ، مال ملتا رہے تو ٹھیک ورنہ غلط، آپ کو ریاست سے نوکری ، پیسے اور ٹکٹ نہیں ملیں گے ۔سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ مسلسل کچھ ہفتوں سے مولانا مجھ پر تنقید کر رہے تھے، ہم ایران کا تنازع طے کرنے گئے ہوئے تھے، کسی جگہ شوق سے نہیں جاتا،وزیراعظم کی ہدایت پر جاتا ہوں، یہ کہناکہ ایران میں معاہدہ کیا گیا،بالکل غلط ہے، ان کیلئے ریاست تب تک ماں ہوتی جب تک یہ ریاست سے فائدہ لیں، یہ اسلام کو بزنس کیلئے استعمال کرتے ہیں، یہ دین کو سیاست، کاروبار،ہر چیز میں فائدے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لائن کراس کریں گے تو انہیں ہر صورت جواب ملے گا، یہ ہمیں کہتے تھے کے پی میں گورنرراج لگوائیں،ہماری جان چھڑائیں، بیرسٹر علی ظفر سے پوچھ لیں،یہ ہمیں گورنر راج لگانے کا کہتے تھے، اب ان کو ریاست سے پیسے یا ٹکٹیں نہیں ملنی، اگر یہ اپنی حد کراس کریں گے تو ان کو جواب دیں گے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں صلح اور بات چیت کیلئے تہران گئے، ایران میں میری موجودگی ضروری نہ تھی، وہاں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا ،مولانا فضل الرحمان جب مجھے شرم کرنے کا کہتے ہیں تو خود بھی سوچ لیا کریں، یہاں کسی پارٹی نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا، انہوں نے مذہب کے نام پر کمائیاں کی ہوئی ہیں ۔ جب آپ مجھے شرم کرنے کا کہتے ہیں تو خود بھی سوچ لیا کریں، ماضی میں مولانا فضل الرحمان حکومتوں کا حصہ بھی رہے ہیں، آپ مجھے طعنہ دیتے ہیں کچھ شرم کرو ، حیا کرو، آپ بھی تو کچھ شرم کریں ، حیا کریں، آپ کون سا آبِ زم زم سے دھلے ہیں، یہاں کوئی بھی اس بات کا دعوی نہیں کر سکتا۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کوئی پرانی بات نہیں، دو سال پہلے ان کے پاس کئی عہدے تھے، ماضی کو بھلا کر مخالفین پر حملہ کرتے ہیں تو کم از کم اپنا ماضی بھی دیکھ لینا چاہئے، پی ٹی آئی والے سیاسی یتیم ہوئے ہیں، انہوں نے بھی اپنے آپ کو مولانا کی چھتر چھایا تلے کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کون کون سی مراعات سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان دس سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، مولانا بتا دیں کہ انہوں نے دس سال میں کشمیر کاز کی کیا خدمت کی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے مولانا کی تقریر تحمل سے سنی ہے، یہاں کسی پارٹی نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا، انہوں نے مذہب کے نام پر کمائیاں کی ہوئی ہیں، یہاں پی ٹی آئی نے یا کسی دوسری جماعت نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا۔ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے مولانا فضل الرحمان کے پے در پے بیانات سے قوم کو تکلیف پہنچی ہے، اپنی ذاتی انا کو اجتماعی انا اور مفاد میں نہیں لے کر جانا چاہیے۔ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان، مولانا عطا الرحمان اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کا احترام ہے، ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے، ماں کے متعلق نازیبا الفاظ قابل مذمت ہیں۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے پے در پے بیانات سے قوم کو تکلیف پہنچی ہے، شہدا کے بارے میں بھی گفتگو احتیاط سے کرنی چاہیے، ریاست کے بارے میں دیئے گئے بیانات قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر ریاست ایسا رویہ نہ رکھے تو کچھ نہیں کہیں گے، جب ریاست کو ماں کا درجہ دیا گیا ہے تو ایسے الفاظ استعمال نہیں ہو سکتے، تھوڑے عرصے پہلے شہدا کے حوالے سے بھی ایسی ہی باتیں کی گئی تھیں، اپنی ذاتی انا کو اجتماعی انا اور مفاد میں نہیں لے کر جانا چاہیے۔ نورین نیازی اس لیے جیل میں ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو ورغلا رہی تھیں، ان کی طبیعت خراب ہوتے ہی انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا اور علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں، نورین نیازی کی تمام رپورٹس ٹھیک آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عدالت میں جا کر ریلیف حاصل کرے، نورین نیازی اسلام آباد پر چڑھائی اور انتشار پھیلانا چاہتی تھیں، اسی لیے جیل میں ہیں۔