قاہرہ میں ڈی ایٹ کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور اقتصادی تعاون کی نئی راہوں پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، عوامی رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔وزیراعظم نے کیمیکلز، سیمنٹ کلینکرز، آلات جراحی، لیدر مصنوعات اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں تجارت کے امکانات کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور ان شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے موجودہ اقدامات جیسے پاکستان سے آنے والے سامان کے 100% فزیکل معائنہ کی شرط کا خاتمہ اور ڈھاکہ ایئرپورٹ پر پاکستانی مسافروں کے لیے سیکیورٹی ڈیسک کا خاتمہ کو سراہا۔وزیراعظم نے پاکستانی ویزا درخواست دہندگان کے لیے اضافی کلیئرنس کی شرط کے خاتمے پر بھی بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور مستقبل میں اعلیٰ سطحی رابطوں کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے عوام سے عوام کے رابطوں کی اہمیت کو تسلیم کیا، جس میں کھلاڑیوں، فنکاروں، ماہرین تعلیم اور طلباء کی سطح پر ثقافتی تبادلے شامل ہیں۔وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ کے شعبے میں بھی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے پاکستان کے دورے اور پاکستانی فنکاروں کے ڈھاکہ میں کنسرٹ کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا۔دونوں رہنماؤں نے D-8 تنظیم کے حوالے سے بھی بات کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک اس فورم پر تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کے مفاد میں کام کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی ترقی اور فوائد کے لیے دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری لانے پر اتفاق کیا۔