افواج پاکستان دہشت گردی ختم کرنے کے مشن پر گامزن

محمد شاہ دوتانی

پاکستان کی سیکیورٹی،سلامتی،معیشت اورپارلیمانی جمہوری نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی ہے اور یہ آکٹو پس کی طرح کا عفریت ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی مختلف شکلوں میں حملہ آور ہے،چند افراد کا جتھہ جدید ہتھیاروں کے ساتھ سرحدی سیکیورٹی فورسز پر حملہ آور ہوتا ہے،بارودی سرنگیں بچھا کر سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا، ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے خونریزی کرنا اور خود کش بمباروں کے ذریعے قتل عام کرنا، یہ مسلح دہشت گردی ہے، اس قسم کی دہشت گردی تواتر کے ساتھ ہورہی ہے ، خصوصاً افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد دہشت گردی کی وارداتیں غیرمعمولی حد تک بڑھ چکی ہیں۔ دوسری جہت معاشی دہشت گردی ہے۔اس کا مقصد پاکستان کو مالی اور پیداواری طور پر تباہ کرنا ہے، یہ دہشت گردی بھی تواتر کے ساتھ ہورہی ہے، تیسرا سیاسی دہشت گردی ہے۔ اس میں ایسی جماعتیں، تنظیمیں بناناجو انتہا پسند نظریات کا پرچار کریں، پاپولر سیاسی جماعتوں میں ایسی قیادت ابھارنا جو انتہا پسند نظریات کی حامل ہوں یا ان نظریات کو کوئی بڑا خطرہ نہ سمجھتے ہوں۔ ریاستی اداروں میں انتہا پسند نظریات رکھنے والوں کی ترقی کا راستہ کھولنا تاکہ ریاست کے اداروں پر اثرانداز ہوا جا سکے۔ یہ سارے پہلو پاکستان کے لیے زہرناک ہیں لیکن اب ڈیجیٹل دہشت گردی سب پر بازی لے گئی ہے۔آج پاکستان ڈیجیٹل دہشت گردی کی یلغار کا سامنا کر رہا ہے۔ نااتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کر کے بیرونی جارحیت کے لیے راہ ہموار کردیتے ہیں۔
 افواج پاکستان کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے جس کے تجربے، مہارت، جانفشانی دلیری اور قربانیوں کی نظیر نہیں ملتی۔پاک فوج قیامِ پاکستان سے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عوام کی حفاظت بھی کر رہی ہے۔ بارڈرز کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے اندرونی محاذوں پر بھی قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔جس دلیری سے پا ک فوج نے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑی اس کی مثال دنیا میں ملنا ناممکن ہے۔ افواج پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کی بدولت دہشت گردی ،انتہا پرستی اور شدت پسندی کا قلع قمع ہو رہا ہے اور حالات تیزی سے بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔پوری قوم کے آرام و سکون کے لیے اپنی نیندیں قربان کر نے والے بہادر سپاہی بلاشبہ قابل فخر ہیں۔ہماری طویل ترین اور دشوار گزار نظریاتی سرحدوں کی بلا خوف و خطرحفاظت کرنے والے بری، بحری اور فضائی افواج کے جوان ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے اور متاثرین کی مدد کرنے میں پاک فوج ہمیشہ سے پیش پیش رہی ہے۔ صحت ، تعلیم ، شاہرات بنانے اور دیگر شعبہ جات میں بھی پاک فوج کی گراں قدر خدمات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔قومی اثاثوں کی حفاظت ، امن و امان ، مردم شماری اور انتخابات وغیرہ پاک فوج کی شمولیت اور بے لوث مدد کے بغیر ناممکن ہے۔ بلاشبہ کرپشن اور دہشت گردی کے شکنجے میں جکڑے وطن عزیز میں اْمید کی واحد کرن پاک فوج ہی ہے۔ افواج پاکستان نے ملک کے دفاع کی قسم کھا رکھی ہے جس کی آبیاری وہ اپنے خون سے کررہی ہے۔پاک فوج دنیامیں نمایاں مقام رکھتی ہے، ایمان، تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ اس کاطرہ امتیاز ہے، پاک فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہر دم تیار ہے۔ دفاع وطن کو اپنی جان سے مقدم رکھنا پاک فوج کا عزم ہے، شہداء￿ کی قربانیاں، غازیوں کے کارنامے قابل تقلید مثالیں ہیں، شہدا کے خون سے آزادی کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ شہدا کا تقدس اور احترام پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔پاکستان کو ترقی اور تہذیب کے راستے پر چلانے کے لیے ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ کرنا لازمی ہے۔ اس کے بغیر پاکستان سیاسی عدم استحکام ،معاشی عدم استحکام اور بد امنی سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔پاکستان کی پاپولر سیاسی قیادت ،مذہبی جماعتوں کی قیادت ،ریاست کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز لوگ اور اہل علم دیکھ رہے ہیں اور پڑھ رہے ہیں کہ ہماری سیکیورٹی فورسز کے افسران اور اہلکار دہشت گردوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں،اس لڑائی میں فوج ،رینجرز ، بارڈر سیکیورٹی فورسز،انٹیلی جنس افسر اور اہلکار ،پولیس کے افسر اور اہلکار ،انتظامیہ کے افسراور اہلکار روزانہ کی بنیاد پر قربانیاں دے رہے ہیں۔پاک فوج کی بے بہا قربانیوں کا ثمر ہے کہ ملک کے بڑے حصے میں اس وقت امن و امان قائم ہے اور یہ ملک دشمن عناصر دوبارہ سے ملک کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ ان کا واسطہ ایک بہادر افواج سے ہے جس سے وابستہ ایک ایک سپاہی ملک پر مر مٹنے کے لیے تیار ہے اور ملک کی بنیادوں کو نقصان پہنچانے والوں کو واصل جہنم کرنے کے لیے ہمہ وقت چوکس ہیں۔