چودھری فرحان شوکت ہنجرا
پاکستان ریلوے بطور قومی ادارہ اپنے منشور، رفتار، خدمت اور حفاظت پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہو تو 1970ء کے منافع بخش ادارے کے دور میں واپس آ سکتا ہے۔ وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی ، سی ای او عامر خان بلوچ سے گزارش کرتے ہیں ریلوے گڈز شعبے کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیرآباد تا کراچی براستہ سیالکوٹ، نارروال سیکشن پر مال بردار ٹرین چلانے کا اجرا کیا جائے۔ وزیرآباد سرجری، الیکٹرونکس، سیالکوٹ سپورٹس،لیدر مصنوعات، چاول جب کہ ضلع نارروال، شیخوپورہ ننکانہ گوجرانولا حافظ آباد بھی چاول کے برآمدگان اضلاع ہیں۔ اندرون و بیرون ملک کے لیے ایکسپورٹرز چاول کراچی، حیدرآباد، ملتان، کوئٹہ تک چاول بھجواتے ہیں۔ ان تاجروں، صنعتکاروں کو روڈ گڈز ٹرانسپورٹ نہ صرف مہنگی بلکہ دیگر جن میں روڈز کا بند ہونا، ٹریفک حادثات سے وقت جان کا ضیاع، مالی نقصان کا اضافی بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ لہٰذا پاکستان ریلوے فی الفور اپنی آمدن میں اضافے کے لیے وزیر آباد، سیالکوٹ، نارروال، لاہور سے ہوتے ہوئے کراچی تک مال بردار ٹرین چلانے کا اہتمام کریں۔ دوسرا نارروال سیکشن پر پیجو والی ریلوے سٹیشن سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر حب کو پاور پلانٹ کو فرنس آئل کی فراہمی کے لیے آئل ٹینکرز تیل پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اگر پاکستان ریلوے ’’حب کو‘‘ کمپنی سے فرنس آئل کی ترسیل کے لیے کنٹریکٹ کرے اور ’’حب کو‘‘ تیل پائپ لائن ریلوے سٹیشن سے اپنے پلانٹ تک بچھائے تو پاکستان ریلوے کو ماہانہ کروڑوں پر ریونیو اور ’’حب کو‘‘ کمپنی کے اخراجات میں کافی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ریلوے ذمہ داران اسی حوالے سے ’’حب کو‘‘ کمپنی سے رابطہ کرے۔ تیسرا نارروال سیکشن پر بند کی گئیں ٹرینیں بحال کی جائیں تو مسافر دوبارہ ریلوے سٹیشنوں کا رخ کریں گے اور ریلوے کی آمدن میں بہت اضافہ ہو گا۔
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ریلوے سٹریٹجک ادارہ ہے اس کی نجکاری نہیں کریں گے یہ بہت ہی حوصلہ افزا عوام ریلوے دوست موقف ہے جس کی تحسین کی جانی چائیے وفاقی وزیر ریلوے نے تین پرائیوٹ کمپنیوں کو بند کرکے بہت ہی شاندار کارنامہ سر انجام دیا ہے جس کی تحسین ریلوے کے ورکرز اور پریم یونین پاکستان کے صدر شیخ محمد انور نے کی ہے یہ کمپنیاں ریلوے پر بوجھ تھیں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری صاحب نے ڈیرہ غازی خان سے ملتان تک شٹل ٹرین کا افتتاح کر دیا ہے اسی طرح خوشحال خان خٹک ایکسپریس کا بھی اجرا ہوگیا ہے جو کہ خوش آئند ہے ساندل ایکسپریس کی بحالی بھی عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے امید واثق ہے کہ وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب اس ٹرین کو بھی جلد چلائیں گے
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب اور چیف ایگزیکٹو عامر خان بلوچ سے گذارش ہے۔ کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ لاہور نارووال ٹریک کی اپ گریڈیشن اور نارووال تا چک امرو سیکشن پر ٹریک کی بحالی کے لیے بھی رقم مختص کی جائے۔حکومت پانچ سالہ سی پیک پراجیکٹ پر عملدرآمد کے لیے چائنہ سے فیز 1سے اور فیز 2کے ابتدائی امور،ریلوے کے حالیہ ڈیزائن فریم ورک کی اپ گریڈیشن جس کے بعد ٹرینوں کی حالیہ سپیڈ 65تا 120کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھ کر 160کلومیٹر فی گھنٹہ ہوجائے گی اور پاکستان ریلویز مین لائن پر جو پسنجر ٹرینیں یومیہ چلارہا ہے ان کی تعداد میں اضافہ بھی ہو جائے گا۔ ریلوے زرائع کا کہنا ہے کہ 420 کو چز جن کی اپ گریڈیشن جوکہ پچھلے پانچ سالوں سے اوور ہالنگ کے لیے کھڑی ہیں اور ان کی 60سے 70فیصد لائف پوری ہوچکی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ 480کوچز کی اوور ہالنگ کے سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہیکہ کوچز کو مینٹینینس کو بہتر کیا جائے گاتاکہ مسافروں کو جدید خطوط پر سہولیات کی فراہمی کرکے ریلوے کے معیار کو مزید بہتر بنا یا جاسکے۔ واشنگ لائنز کی اپ گریڈیشن کے لیے بھی پلان ترتیب دیا جائے گا۔جس سے ٹرینوں کی صفائی ستھرائی کا انتظام بروقت ممکن ہوسکے اور ہر ٹرین کے ساتھ صفائی عملہ کی موجوگی کو یقینی بنانے کی لیے بھی ہدایت جاری کیں۔ وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب کا کہنا ہے کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ اور بی او ٹی کی طرز پر بڑے پراجیکٹس کے ساتھ ساتھ چھوٹے پراجیکٹس بھی تیار کیے جائیں گے۔تاکہ کم وقت میں محکمہ زیادہ ترقی کرسکے۔لاہور،فیصل آباد،نارووال،چک امرو سیالکوٹ وزیر آباد،سمہ سٹہ،بہاولنگر،چک امرو سیکشنوں کو بھی اپ گریڈ کرنے کا پراجیکٹ تیار کیا جائے گا۔ٹرینوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے ماڈل تیار کیے جائیں گے۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مسافروں کی سہولت کے لیے تمام بڑے ریلوے سٹیشنوں سمیت ٹرینوں میں انٹرنیٹ اور وائی فائی فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر ایک ماڈل تیار کیا جائے گا۔ انٹرنیٹ اور وائی فائی کی سہولت اور ویڈیو کا نفرنس کے لئے آلات نصب کیے جائیں گے۔
اہلیان ناروال اور ڈیلی پسینجر ایسوسی ایشن ریلوے کے صدر حافظ عبدالقیوم نے وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب سے سے مطالبہ کیا ہے کہ نارووال سیالکوٹ سیکشن پر2009 سے عارضی طور پر بند کی گئی ٹرینوں کو بحال کیا جائے۔اور 171اپ 172 ڈاؤن سیالکوٹ ایکسپریس جو لاہور تا راولپنڈی براستہ نارووال سیالکوٹ وزیر آباد تک چلتی تھی اسے جلد از جلد چلایا جائے
ریلوے پریم یونین پاکستان کے صدر شیخ محمد انور نے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے مطالبہ کیا ہے کہ 217/218شہسوار ایکسپریس کو لاہور ناروال،سیالکوٹ، تک بحال کیا جائے۔اور نارووال سیالکوٹ سیکشن سے سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے۔ شیخ محمد انور نے کہا ہے کہ الحمداللہ محمد حنیف عباسی صاحب کے وزیر ریلوے کے منصب سنبھالنے کے بعد ریلوے اب بہتری کی طر ف گامزن ہے سابق چیف ایگزیکٹو ریلوئے اعجاز احمد بریروصاحب لاہور تا نارووال سیکشن پر 218ڈاؤن۔217اپ، شاہسوار ٹرین چلانے کے احکامات جاری کر چکے۔